راہ عمل

by Other Authors

Page 16 of 89

راہ عمل — Page 16

14 پھر صحابہ نے دوسروں میں یہ روح پھونکی اور انہوں نے اوروں میں۔اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ مسلمانوں نے اس بات کو بھلا دیا تب خدا تعالیٰ نے اس روح کو دوبارہ پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کو بھیجا۔اس طرح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہی دعوت الی اللہ کر رہے ہیں۔پس علماء کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ پیدا کریں جو دوسروں کو دعوت الی اللہ کرنے کے قابل ہوں۔وہ خدمت گزاری اور شفقت علی الناس کا خود نمونہ ہوں اور دوسروں میں یہ بات پیدا کریں۔۔ان کا کام تقریر کرنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کے اخلاق کی تربیت ہے انہیں دعوت کرنے کے قابل بنانا ہے اور پھر وہ اپنا تصنیف کا شغل ساتھ رکھیں۔جہاں جائیں لکھنے پڑھنے میں مصروف رہیں۔کوئی ادبی مضمون لکھیں ، کسی مسئلے کے متعلق تحقیقات کریں ، ضروری حوالے نکالیں ، تاریخی امور جمع کریں تو پھر ان کے متعلق یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ فارغ رہتے ہیں۔یہ تاریخی مختلف کام ہیں جن کی طرف ہمارے داعیان الی اللہ کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی داعی کہیں جاتا اور وہاں تصنیف کا شغل بھی جاری رکھتا تو لوگ یہ نہ کہتے کہ وہ فارغ رہا بلکہ یہی کہتے کہ لکھنے میں مصروف رہا۔مگر داعیان کو اس طرف توجہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ تصنیف کا کام نہیں ہو رہا۔۔۔۔جو آئندہ والی بننے والے ہیں۔۔۔۔میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہی طریق اختیار نہ کریں جو ان سے پہلوں نے کیا اور جس کی وجہ سے نو حصے کام ضائع ہوا اور صرف ایک حصہ ہو رہا ہے۔اس طرح جماعت کی ترقی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ جو داعیان اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے انہیں صحیح طور پر صرف نہیں کرتے وہ جماعت کے لئے ترقی کا موجب نہیں بن سکتے۔جو لوگ آئندہ دائی بننے والے ہیں وہ اپنے اوقات کی پوری طرح حفاظت کرنے کا تیہ کر لیں۔ان کا کام صرف اپنے منہ سے دعوت کرنا نہیں بلکہ دوسروں کو دینی مسائل سے آگاہ کرنا۔ان کے اخلاق کی تربیت کرنا ان کو دین کی تعلیم دینا ان کے سامنے نمونہ بن کر قربانی اور ایثار سکھانا اور انہیں دعوت کے لئے تیار کرنا ہے۔گویا ہمارا ہر ایک داعی جہاں جائے وہاں دینی اور اخلاقی تعلیم کا کالج کھل جائے۔کچھ دیر تقریر کرنے اور لیکچر دینے کے بعد اور کام کئے جا سکتے ہیں مگر متواتر بولا نہیں جا سکتا کیونکہ گلے سے زیادہ کام