رَدْ تَنَاسُخْ — Page 15
۱۵ من يا أيها الناس اعبدوا ربكم الذي خلقكم والذين قبلكم لعلكم تتقون الذي جعل لكم الارض فراشا وا السماء بناء وانزل من السماء ماءاً فاخرج به من الثمرات رزقاً لكم فلا تجعلو الله اندادا اور ذیا یا وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون : جب عبادت الہی انسان پر واجب ہوئی۔اور یہ سامان اس لئے عطاء ہوا۔کہ انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کر سکے۔پس یہ سان جزا اور سزار میں داخل نہ ہوگا۔کیونکہ اگر جزا اور سزائے اعمال میں اسے داخل کیا جاوے۔تو باری تعالے اپر ظلم کا الزام ہوگا۔اس لئے کہ یہی چیزین منصبی فرایض کے ادا کر نے میں بھی ضروری تھیں۔اور یہی انتہا کر دوری میں بھی داخل ہو گئیں۔ہاں ان کا دفور اور ان کا عمدگی سے میسر ہو جانا لعنتی و ثمن اعمال کے بعد ہوتا ہوتا to تو یہ تمہیں۔سا جواب۔اگر یہ تفرقہ میں کے باعث تناسخ کے ماننے والوں کو شبہ بڑار سابقہ جسم کے اعمال کی سزا اور جزا ہوتا۔تو ضرور تھا۔کہ اتنی برکت کی بات بلکہ یوں کہئے کہ لا انتہا زمانہ کی و لوگو فرمانبردار ہے رہو۔اپنے اس رب کے جینے نکلو اور تم سے پہلوں کو بنایا اور فرمانبرداری کا یہ فائدہ ہوگا۔کہ تم دکھوں سے بچے رہوگے۔اسی رب نے زمین کو تمہارے لئے فریاش ر آرام گاہ اور گول ) او آسمان کو بناء بنایا۔اور بادلو سے پانی اوتارا پہر نکالے اس سے کئی قسم کے پہل رزق تمہار لئے۔میں شرد در اللہ کا کسی کوئی امریں شریک نہ بنائو۔سے بن وانس تو صرف اسلئے ہیں کہ الہ تو کی فرمانبردار رہیں۔