رَدْ تَنَاسُخْ — Page 22
سبحانه تعالى عما يصفون ط هـ تیسواں جو اب ہم لوگ بعض وقت بیوجہ احسان کرتے۔اور پھر دوسرے وقت احسان کے خلاف کرتے یا احسان نہیں کرتے۔اس وقسیم کی مختلف کاروائی سے معلوم ہوتا ہے۔کہ احسان کرنا ہمارا ذاتی اور خانہ زاد وصف نہیں بلکہ ما بالعرض ہم کو یہ صفت لاحق ہو جاتی ہے۔اور ہر ما بالعرض کیو اسطے بالذات ضرور رہتے۔پس لازم آیا کسی جگہ انسان بالذات موجود ہے۔تو کیوں آریو! اس جگہ کا نام۔باری تعالی کی پاک ذات نہیں جانتی؟ ذات ہند چوبیسواں جواب۔تاریخ کے اعتقاد پر ضرور ہے۔کہ کسی شخص کو جناب باری تعالیٰ کی پاک ذات سے محبت نہ رہے۔۔حالانکہ نص ہے۔اور آ پاتے ہیں۔والذين امنوا اشد حبا الله :- اور یہ بات کہ تناسخ کو ماننے پر باری تعالی سے محبت نہیں رہ سکتی۔اسلئے ہے۔کہ جس میچ کی نسبت ہجوم کو استفاد ہو دیار کہ ممکن نہیں کہ میری خلاف ورزی قانون اور جرم کے بعد یہ حاکم محمد قصور وار پہ رحم کرے گا۔وہ حاکم مجرم کو کیوں پیارا ہونے لگا۔ہاں جس مجرم کا یہ ایمان ہو کہ شاید حاکم سے در گزر ہو جا دے۔آج نہ سہی کل۔البتہ وہاں محبت ممکن ہے۔چیسواں جواب حسب الاعتقاد ایسے عدل ایزدی کے جیمی اللہ تعالیٰ کے فضل و کہ تم عطا۔اور احسان کی امید نہ رہے۔بد کار کو اسکی جناب جما دعاء پر اور تھنا۔لغو اور بیہودہ ہے۔ایمان ہے تو اللہ تعالی سے بڑی محبت سکھا کرتے ہیں :