رَدْ تَنَاسُخْ — Page 13
جمع ہوں گے۔ویسا ہی سکھ اور دُکھ بھو گئیں گے۔پہلی صورت میں روح کا وجود ہی عناصر سے ہوا۔جزا اور سزا سابقہ تنم کی کہاں! اور دوسری صورت پر اگر کوئی اعتراض کرے۔کہ ارواح نے ایسی جگہ کیوں تعلق پیدا کیا۔جہاں ان کو آخر تکلیف اٹھانی پڑی۔تو اس کا جواب بالکل ظاہر ہے۔کیونکہ - ارواح بقول آریہ کے۔اور آزاد ہیں۔ارواح کو کوئی یہ دک نہیں۔اور پھ بھی ہے۔کہ اس روح کو جب ابد الآباد ترقی کی راہ کھول دی گئی۔تو اسپر کوئی ظلم نہ ہوا۔بلکہ اسپر رحم ہوا۔اور یہ بھی ہے کہ اگرچہ اس آج روح کو بظا ہر تکلیف معلوم ہوتی ہے۔کہ ناقص اور کہی قالب سے اس کا تعلق ہے۔مگر اسی عنصر نی مائیں اسے بڑی بڑی فضیلتوں کے لینے کا موقع دیا گیا ہے۔اس لئے اسپر رحم ہے ظلم نہیں۔ہاں ایسے موقع ملتے ہیں۔اگر روح نے نافرمانی کی تو شر سزاء کا مستحق ہے۔اللہ تعالے رحیم - کریم۔اور عادل۔چاہے پکڑے چاہئے عضو کرے۔اور وہ اپنے امیر پر غالب ہے۔جود ہوان جواب۔مختلف ملکوں کی آب و ہو اسر ارواح کے مختلف صفات ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔بلکہ مختلف پیشوں مختلف قسم کے مکانوں جن میں روشنی اور ہوا کی آمد و رفت اور صفائی کے لحاظ سے اختلاف ہو۔مختلفہ اشیاء کے کھانے اور مختلف بیرون کے پینے پہننے اور استعمال میں لانے سے اور انواع و اقسام کے عادات سے ارواح کے حالات- صفات اور معاملات ہیں اختلاف نظر آتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں۔بگڑے ہوئے حالات کی اصلاح ان مختلف تدابیر سے ہو جاتی ہے۔جن کو اطباء میں اور طبعی حکماء علوم طبعیات میں بیان کرتے ہیں۔