رَدْ تَنَاسُخْ — Page 11
w وانتم الفقراء اور فرمایا۔الله خَالِقُ كُلِّ شَى :- دسواں جواب۔اگر ار واچ الٹی مخلوق نہیں۔تو ہم پوچھتے ہیں۔بدی اور بد کار کی ارواح کا ذاتی اور فطری تقاضاء ہے۔یا عرضی ؟ اگر بدی اور بد کار ی ارواح کا ذاتی تقاضا اور جیلی منشاء ہو تو ظاہر ہے۔کہ ذاتی تقاضوں اور جبلی منشاؤں کے پورا ہو نیکا نام راحت اور آرام ہے۔نہ ریح اور تکلیف۔اور اگر بدی اور بد کاری کوئی عارضی امر ہے۔جو ارواح کو لاحق ہوا۔تو چاہئے کبھی وہ عرض دور ہو جا وے۔جب عرض دور ہو گئی۔تو روح پاک اور پوتر ہو کر آئندہ ہمیشہ نیک اعمال کی طرف متوجہ رہے۔بلکہ یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کرے۔کیونکہ روح کو اگر یہ نے چین اور مجہہ دار ماتا ہے۔آریہ صاحبان! اگر اتنے تجربہ پر روح نے ابتک نہیں سمجھا تو وہ چین نہیں۔یا کسی راز دار الہامی کو الہاما پتہ لگ جاوے کہ الہی ارادہ بعض کے حق میں اس عرض کے دوام لحوق کا ہو چکا ہے۔گیارہواں جواب۔لڑکوں کی پرورش کی جاتی ہے۔اور ان کو تعلیم کے واسطے تکلیف اور سرزنش دی جاتی ہے۔انسان تکلیف کو سزا یا جزا نہیں کہا جاتا۔بلکہ اس کا نام تربیت یہ کہتے ہیں۔پس ایسی ہی وہ تکالیفت جو دنیا میں عارض ہوتے ہیں۔ان کی نسبت نہوں نہیں کہا جاتا کہ وہ تربیت الہی میں داخل ہیں۔نہ سزا اور جزا میں ہمارے لئے نہ سہی مجموعہ عالم کے واسطے کہی۔اس جواب کو بارہواں جواب اور زیادہ واضح کرتا ہے۔بارہواں جواب۔حضرت سید ناسیح علیہ السلام کے ہاتھ پر جب ایک جسم کا اندھا اچھا ہوا تو حضور علیہ السّلام کو حواریوں نے عرض کیا۔یہ لڑکا کیوں نابینا تھا۔کیا اپنے گناہ کے باعث ے اداسی ہر چیز کا پیدا کر نیوالا ہے۔