رَدْ تَنَاسُخْ — Page 10
نواں جواب دیا نندی آریہ کا اعتقاد ہے۔کل ارواح محدود اور غیر مخلوق ہیں۔ہمیشہ ادا گون یعنے تسنیم اور مرن میں بتلا اور رہے۔اور ہمیشہ رہیں گے۔اگر کچھہ زمانہ آزاد بھی رہے۔تو بھی ان میں بیج انرم تر یعنے تخم کی طرح برائی موجود رہتی ہے۔جس کے باعث آخر پھر ارواح کو جنم لینا پڑتا ہے۔اور جو لوگ ارواح کو مخلوق مان کر تناسخ کو مانتے ہیں۔انکو یہی ماننا پڑتا ہے۔کہ ارواح غیر مخلوق اور قدیم ہیں۔کیونکہ ہر ایک نجم کے اعمال افعال اور اقوال جب پہلے جسم کے پھل اور ثمرات پھیرے۔تو بصورت مخلوق ہونے ارواح کے پہلے جہنم کے اعمال افعال اور اقوال اور ارواح کا باہمی تفرقہ کس شبنم کا کمرہ ہوگا۔اس لئے بر تقدیر سلیم مسئلہ تناسخ یعنی اواگون کے ارواح کو غیر مخلوق اور ہمیشہ سے تنجم اور مرن) میں رہنا پڑا۔جب روح انادی اور مخلوق بھی ہیں۔اور سورج کا وجود اللہ تعالی کی دیا ہوا نہ شہر اور سرور جان کی اور ابدی ہوئی۔تو چاہیے کہ روح اپنی بتا دیں اللہ تعالٰی کی محتاج ہو۔رکن ہم دیکہتے ہیں۔کہ جیسے ہمارا بدن کہانے پینے پہنے وغیرہ وغیرہ کا محتاج ہے۔روح یہی بدلتا سے کم مختاج نہیں ورا ستیا جوں سے قطع نظر کہ کے اس امر کا خیال کرو کہ سورج علوم کے حاصل کرنے میں کتنی محتاج ہے۔اسی دلیل کی طرف قرآن کریم نے ایما فی مایا۔فرمانا ہے۔يا ابهَا النَّاسُ الفقر والى الله والله هو الغنى الحميد والله الغنى أَيُّهَا أَنتُمُ أو ہے۔اے لوگو تم سب اللہ کےمحتاج ہو۔واللہ ہی غنی حد کیا گیا ہے۔اوراللہ ہی طنی ہے۔اور تم محتاج ہو: