رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 8 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 8

مرکز حیوان اور حیوانی روح انسانی بن جاتی ہے۔بعض انسان شجر وحجر ہو جاتے ہیں۔اور بعضے شجر و حجر انسان۔اور نہ وح وہی روح رہتی ہے۔اور یہ امیر سائنس کے بالکل خلاف ہے۔تعجب آتا ہے۔دیانندی آریہ کے اعتقاد پر۔روح کے گئی۔کریم بہاؤ یعنی روح کے خواص - افعال۔اور عادات آزادی اور غیر مخلوق ہیں۔اور بروح کے لئے یہ امور دیا نندیوں کے نزدیک لازمی ہیں۔روح سے کبھی علیحدہ نہیں ہوتے۔پھر روح کے تجر و حجر ہو جانے کی حالت میں ہم پوچھتے ہیں۔وہ صفات اور لوازمات کہاں چلے جاتے ہیں۔کیا ثبوت ہے۔کہ یہ صفات ولوازمات اسوقت یہی روح کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔ساتواں جواب۔تناسخ کے ماننے میں سچے علم طب کا وہ بڑا بھاری خزانہ جس کی صداقت کو ہم رات و دن بچشم خود دیکھیتر لغو ہو گا۔حالانکہ ہدایت مشاہدہ اس کو لغو نہیں ٹھیرا سکتا۔اور کیوں لغو ٹھیرا سکے۔خالق خطرہ اور پیچر کا پیدا کرنے والا خود فرماتا ہیں۔ہے۔خَلَقَ لَحُكمُ مَا فِي الاَرضِ جَمِيعًا۔تناسخ ماننے میں علم طب کا بے فائدہ ہونا اس لئے ثابت ہوتا ہے۔کہ تب ہم نے مانا کہ تمام بیماریاں جو انسان اور حیوانات کو لاحق ہوتی ہیں۔وہ سب بیماروں کے سابقہ اعمال کا نتیجہ اور نمرہ ہے اور بد اعمال کی سزاء ہے۔تو طبیب اور نیچرل فلاسفی کے جاننے کو والے نیچرل اسباب کو کیوں ڈھونڈ رہنے لگے۔اور جب الاحتفاء سے سب جو زمین میں ہے۔تمہارے لئے پیدا کیا :-