ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 65 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 65

سی باتیں پوچھیں اور ابوسفیان نے اس وجہ سے جو اُس دربار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر بھی موجود تھا جو تبلیغ اسلام کا خط لے کر قیصر روم کی طرف آیا تھا بجز راست گوئی کے چارہ نہ دیکھا کیونکہ قیصر نے اُن اُمور کے استفسار کے وقت کہہ دیا تھا کہ اگر یہ شخص واقعات کے بیان کرنے میں کچھ جھوٹ بولے تو اس کی تکذیب کرنی چاہیئے سو ابو سفیان نے پردہ دری کے خوف سے سچ سچ ہی کہہ دیا اور جس قدر قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کچھ حالات دریافت کئے تھے وہ سچائی کی پابندی سے بیان کر دیئے گو اُس کا دِل نہیں چاہتا تھا کہ صحیح طور پر بیان کرے مگر سر پر جو مکذبین موجود تھے وہ خوف دامنگیر ہو گیا اور جھوٹ بولنے میں اپنی رسوائی کا اندیشہ ہوا جب وہ سب کچھ قیصر روم کے روبرو بیان کرچکا تو اُس وقت قیصر نے وہ کلام کہا جو مندرجہ بالا عربی عبارت میں مذکور ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر یہ باتیں سچ ہیں جو تو کہتا ہے تو وہ نبی جو تم میں پیدا ہوا ہے عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا جس جگہ یہ میرے دونوں قدم ہیں اور قیصر نجوم کے علم میں بہت دسترس رکھتا تھا۔اس علم کے ذریعے سے بھی اُس کو معلوم ہوا کہ یہ وہی مظفر اور منصور نبی ہے جس کا توریت اور انجیل میں وعدہ دیا گیا ہے اور پھر اُس نے کہا کہ مجھے تو معلوم تھا کہ وہ نبی عنقریب نکلنے والا ہے مگر مجھے یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے نکلے گا اور اگر میں جانتا کہ میں اُس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں کوشش کرتا کہ اُس کو دیکھوں اور اگر میں اُس کے پاس ہوتا تو اپنے لئے یہ خدمت اختیار کرتا کہ اُس کے پیر دھویا کروں۔فقط یہ وہ جواب ہے جو قیصر نے خط کے پڑھنے کے بعد دیا یعنی اُس خط کے پڑھنے کے بعد جس میں قیصر کو اُس کی تباہی اور ہلاکت کی شرطی دھمکی دی گئی تھی اور گو قیصر نے اسلم تسلم کی شرط کو جو خط میں تھی پورے طور پر ادا نہ کیا اور عیسائی جماعت سے علیحدہ نہ ہوا لیکن تاہم اُس کی تقریر مذ کورہ بالا سے پایا جاتا ہے کہ اُس نے کسی قدر اسلام کی طرف رجوع کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اُس کو مہلت دی گئی اور اُس کی سلطنت پر بکلی تباہی نہیں آئی اور نہ وہ جلد تر ہلاک ہوا۔اب جب ہم ڈپٹی آتھم کے حال کو قیصر روم کے حال کے ساتھ مقابل رکھ کر دیکھتے ہیں تو وہ دونوں حال ایک دوسرے سے ایسے مشابہ پائے جاتے ہیں کہ گویا آتھم قیصر ہے یا قیصر آتھم ہے۔کیونکہ ان دونوں نے شر طی پیشگوئی پر کسی حد تک عمل کرلیا اس لئے خدا کے رحم نے رفق اور آہستگی کے ساتھ ان سے معاملہ کیا اور اُن دونوں کی عمر کو کسی قدر مہلت دے دی۔مگر چونکہ وہ دونوں خدا کے نزدیک اخفائے شہادت کے مجرم ٹھہر گئے تھے اور آتھم کی طرح قیصر نے بھی گواہی کو پوشیدہ کیا تھا۔کیونکہ اُس نے بالآخر اپنے ارکان دولت کو اپنی نسبت بدخن پا کر ان لفظوں سے تسلی دی تھی کہ وہ میری پہلی باتیں جن میں میں نے اسلام کی رغبت ظاہر کی تھی اور تمہیں ترغیب دی تھی وہ باتیں میرے دل سے نہیں تھیں بلکہ میں تمہارا امتحان کرتا تھا کہ تم 65