ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 66
کس قدر عیسائی مذہب میں مستحکم : تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحات 372 تا 376) لیکھرام اور کسری لیکھرام کا حال کسری سے یعنی خسرو پرویز سے مشابہ ہے کیو نکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و وسلم کے خط پہنچنے پر اُس نے بہت غصہ ظاہر کیا اور حکم دیا کہ اُس شخص کو گرفتار کرکے میرے پاس لانا چاہیئے۔تب اُس نے صوبہ یمن کے گورنر کے نام ایک تاکیدی پروانہ لکھا کہ وہ شخص جو مدینہ میں پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے جس کا نام محمد ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کو بلا توقف گرفتار کرکے میرے پاس بھیج دو۔اُس گورنر نے اس خدمت کے لئے اپنے فوجی افسروں میں سے دو مضبوط آدمی متعین کئے کہ تا وہ کسری کے اس حکم کو بجا لاویں۔جب وہ مدینہ میں پہنچے اور اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ظاہر کیا کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اپنے خداوند کسری کے پاس حاضر کریں تو آپ نے اُن کی اِس بات کی کچھ پرواہ نہ کر کے فرمایا کہ میں اس کا کل جواب دوں گا۔دوسری صبح جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو (جس کو وہ بار بار خداوند خداوند کرکے پکارتے تھے) اُسی کے بیٹے شیرویہ کو اُس پر مسلط کر کے قتل کر دیا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب یہ لوگ یمن کے اُس شہر میں پہنچے جہاں سلطنت فارس کا گورنر رہتا تھا تو ابھی تک اُس گورنر کو کسری کے قتل کئے جانے کی کچھ بھی خبر نہیں پہنچی تھی اس لئے اُس نے بہت تعجب کیا مگر یہ کہا کہ اس عدول حکمی کے تدارک کے لئے ہمیں جلد تر کچھ نہیں کرنا چاہیئے جب تک چند روز تک سلطنت کی ڈاک کی انتظار نہ کرلیں۔سو جب چند روز کے بعد ڈاک پہنچی تو اُن کا غذات میں سے ایک پروانہ یمن کے گورنر کے نام نکلا جس کو شیرویہ کسری کے ولی عہد نے لکھا تھا۔مضمون یہ تھا کہ خسرو میرا باپ ظالم تھا اور اُس کے ظلم کی وجہ سے اُمورِ سلطنت میں فساد پڑتا جاتا تھا اس لئے میں نے اُس کو قتل کر دیا ہے۔اب تم مجھے اپنا شہنشاہ سمجھو اور میری اطاعت میں رہو اور ایک نبی جو عرب میں پیدا ہوا ہے جس کی گرفتاری کے لئے میرے باپ نے تمہیں لکھا تھا اُس حکم کو بالفعل ملتوی رکھو اور جیسا کہ ابھی ہم بیان کرچکے ہیں کہ قیصر اور آتھم کا قصہ بالکل باہم مشابہ ہے ایسا ہی ہم اس جگہ بھی اس بات کے لکھنے کے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسی طرح لیکھرام کا قصہ کسری یعنی خسرو پرویز کے قصے سے نہایت شدید مشابہت رکھتا ہے کیونکہ جس طرح کسی ہندو نے جو اپنے تئیں نو مسلم قرار دیتا تھا لیکھرام کے پیٹ پر حربہ چلایا اسی طرح شیرویہ نے خسرو کے پیٹ پر حربہ چلایا اور اُن دونوں واقعات لیکھرام اور کسری سے پایه 66