ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 61
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام جس کے اندر کھجور کے پتے اور ان کے ریشے بھرے ہوتے۔ہم اسی کے ہو گئے ہیں جو ہمارا ہوگیا (بخاری 48 باب الرقاق باب (71) چھوڑ کر دنیائے دوں کو ہم نے پایا وہ نگار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی رہائش کی سادگی کے بارے میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے ہیں: حضرت مکان اور لباس کی آرائش اور زینت سے بالکل غافل اور بے پرواہ ہیں۔خدا کے فضل و کرم سے حضور کا یہ پایہ اور منزلت ہے کہ اگر چاہیں تو اپنے مکان کی اینٹیں سنگ مرمر کی ہو سکتی ہیں اور آپ کے پا انداز سندس و اطلس کے بن سکتے ہیں مگر بیٹھنے کا مکان ایسا معمولی ہے کہ زمانے کی عرفی نفاست اور صفائی کا جاں دادہ تو ایک منٹ کے لئے وہاں بیٹھنا پسند نہ کرے میں نے بارہا وہ لکڑی کا تخت دیکھا ہے جس پر آپ گرمیوں میں باہر بیٹھتے ہیں اس پر مٹی پڑی ہوئی ہے اور میلا ہے جب بھی آپ نے نہیں پوچھا اور جب کسی نے خدا کا خوف کر کے مٹی جھاڑ دی ہے جب بھی التفات نہیں کیا کہ آج کیسا صاف اور پاک ہے غرض اپنے کام میں اس قدر استغراق ہے کہ ان مادی باتوں کی مطلق پرواہ نہیں۔جب مہمانوں کی ضرورت کے لئے مکان بنانے کی ضرورت پیش آئی ہے بار بار یہی تاکید فرمائی ہے کہ اینٹوں اور پتھروں پر پیسہ خرچ کرنا عبث ہے اتنا ہی کام کرو کہ چند روز بسر کرنے کی گنجائش ہو جائے نجار تیر بندیاں اور تختے رندے سے صاف کر رہا تھا کہ روک دیا کہ یہ محض تکلف اور ناحق کی دیر لگانا ہے۔فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ ہمیں کسی مکان سے کوئی انس نہیں۔ہم اپنے مکانوں کو اپنے پیارے اور اپنے دوستوں میں مشترک جانتے ہیں اور بڑی آرزو ہے کہ ایسا مکان ہو کہ چاروں طرف ہمارے احباب کے گھر ہوں اور درمیان میں میرا گھر ہو اور ہر ایک گھر میں میری ایک کھڑ کی ہو کہ ہر ایک سے ہر ایک وقت واسطہ و رابطہ رہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت مولوی عبد الکریم صفحہ 39 - 40 ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: إِنَّمَا الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهُوَ دنیا اور دنیا کی خوشیوں کی حقیقت لہو ولعب سے زیادہ نہیں کیو نکہ وہ عارضی اور چند 61