ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 398
ہے اس کو یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔“ آمین 4۔اگر (ملفوظات جلد 4 صفحہ 185 جدید ایڈیشن) کسی بھائی کی غلطی دیکھو تو اس کے لئے دعا کرو کہ خدا اُسے بچالے۔یہ نہیں کہ منادی کرو۔جب کسی کا بیٹا بدچلن ہو تو اس کو سر دست کوئی ضائع نہیں کرتا بلکہ اندر ایک گوشہ میں سمجھاتا ہے کہ یہ برا کام ہے اس سے باز آجا۔پس جیسے رفق، حلم اور ملائمت سے اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو، ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو۔جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے؟ دو (ملفوظات جلد 6 صفحہ 368 - 369 ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) 5۔" کسی پر تکبر نہ کرو کو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔بہت ہیں جو علم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیئے ہیں۔بہت سے ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ ان کی تحقیر اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11) زندگی میں بعض دفعہ صرف نرمی اور عفو سے مسائل حل نہیں ہوتے۔بلکہ اصلاح کی غرض سے سزا دینی پڑتی ہے۔اس میں بھی نرمی کا پہلو رکھا گیا ہے۔جرم کی مناسبت سے سزا دی جائے اور تائب ہونے کی صورت میں معاف کر دیا جائے۔گناہ پر ندامت دکھانے والا ایسا ہی ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔قرآن کریم مجبور مقروض کے لئے بھی نرمی کا درس دیتا ہے۔ارشاد ہے: اور اگر کوئی تنگ دست ہو تو (اسے) آسائش تک مہلت دینی چاہئے اور اگر تم خیرات کر دو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے، اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔(البقرہ: 281) اعلیٰ خُلق کا اظہار باہر غیروں کے سامنے دکھاوا کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ سارے ماحول میں نظر آئے۔398