ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 36 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 36

کر باہر آجائے۔بخاری سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور موقع پر جبکہ آنحضرت صلی الی یکم جمعہ کے خطبہ کے لئے منبر پر چڑھے ہوئے تھے ایک صحابی نے موسم کی سختی کا ذکر کر کے عرض کیا کہ ”یارسول اللہ! جانور مر رہے ہیں اور سفر کٹھن ہو رہے ہیں۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی بارش برسائے۔“ آپ نے اسی وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئے اور بارش کے لئے بلند آواز سے دعافرمائی۔انس بن مالک جو اس روایت کے راوی ہیں اور جو آنحضرت صلی ا ظلم کے خاص خدمت گار تھے بیان کرتے ہیں کہ اس وقت آسمان بالکل صاف تھا، لیکن ابھی ہم مسجد میں ہی تھے اور جمعہ سے فراغت نہیں ہوئی تھی کہ ایک طرف سے بادل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نمودار ہوا اور ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ سارے آسمان پر چھا گیا اور پھر بارش برسنے لگی اور برابر ایک ہفتہ تک برستی رہی اور اس عرصہ میں ہم نے سورج کی شکل تک نہیں دیکھی (حالانکہ اس ملک میں ایسی صورت بہت شاذ ہوتی ہے) پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو ایک شخص نے آنحضرت صلی الم سے عرض کیا کہ ”یارسول اللہ ! بارش نے تو رستے روک دیئے اور چراگاہوں کے غرقاب ہو جانے سے مویشی بھوکے مر رہے ہیں دعا فرمائیں کہ اب اللہ تعالیٰ اس بارش کے سلسلہ کو روک دے۔“ آنحضرت صلی علی کریم نے تبسم فرمایا اور پھر آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا۔۔۔یعنی خدایا! اب ہم پر اس بارش کے سلسلہ کو بند فرما اور دوسری جگہ جہاں ضرورت ہو وہاں برسا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلے تو دھوپ نکلی ہوئی تھی۔(سیرت خاتم النبیین صفحہ 817) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ جس سمت میں ہاتھ سے اشارہ فرماتے تھے بادل پھٹ کر اسی طرف چلا جاتا تھا، بالآخر چاروں طرف بارش ہوتی رہی اور مدینہ درمیان میں ٹکی کی طرح رہ گیا اور ایک ماہ تک قنات نامی نالہ بہتا رہا۔سن 10 ہجری میں حجاز کے شمال میں آباد قبیلہ بنو خزاعہ کے ایک ذیلی قبیلہ بنو سلامان کا وفد آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا دیگر گزارشات کے ساتھ انہوں نے اپنے علاقے میں بارش کی کمی کے لیے دعا کی درخواست کی۔آپ نے وہاں کے لیے بارش کی دعا کی: 36