ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 37
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام اللَّهُمَّ أَسْقِهِم الغَيْثَ فِي دَارِهِمْ اے اللہ! ان کے ہاں بارش برسادے۔یہ دعا سن کر ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی علیکم ! ہاتھ اٹھا کر بھی دعا کریں۔“ اس کی درخواست پر آپ نے تبسم فرمایا اور ہاتھ اٹھا کر بھی دعا کی۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں اسی روز بارش ہوئی تھی۔( ابن سعد ذكر وفادات العرب ) اللہ تبارک و تعالیٰ کے نور سے ممسوح، نور مجسم محمد رسول اللہ صلی یلم ، دنیا میں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجے گئے اس فیض کے چشمہ سے سیرابی آپ سے عشق اور آپ کی اطاعت اور آپ کے رنگ میں رنگین ہو جانے کی نسبت سے ہے۔یہ سعادت سب سے بڑھ کر آپ کے عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے حصے میں آئی۔حتی کہ فرشتوں نے آسمان سے نور برسایا۔فرماتے ہیں: ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ فرشتے آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان پر لیے آتے ہیں اور ایک نے ان سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598) دگر استاد را نامے نہ دانم که خواندم در دبستان محمد روحانی سفر میں کسی استاد کا نام معلوم نہیں، میں نے تو محمد لیلا نیلم کے دبستان سے تعلیم پا سے تعلیم پائی ہے۔حضرت اقدس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ رسول پاک صلی می ریم کے اسوہ حسنہ کا عکس تھا۔وہی ادائیں وہی طور طریق وہی عمل اور رد عمل نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے عشق کے انداز ہو بہو وہی تھے ہر خیر اسی سے مانگتے شکر گزار ہوتے۔باران رحمت کے لئے دعا کے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔صرف آگ ہی آپ کی اور غلام نہیں تھی بلکہ بادل، بارش، پانی سب آپ کے غلام تھے۔37