ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 323
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کس نے مانا مجھ کو ڈر کر کس نے چھوڑا بغض وکیں زندگی اپنی تو ان سے گالیاں کھانے کو ہے ”ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور فحش گالیاں دینے لگا اور ایسا شروع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ حضرت صاحب کی اجازت ہوتی تو اس کی وہیں تکہ بوٹی اڑ جاتی۔مگر آپ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس مخش زبانی کی حد ہو گئی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔دو آدمی اسے نرمی سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دیں۔“ (سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحه 257 - 258 روایت نمبر 281 جدید ایڈیشن) جب ایک نے اخبار شحنہ حق کے ایڈیٹر پر گندے مضامین چھاپنے پر مقدمہ کرنے کا ذکر کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے۔یہ گناہ میں داخل ہو گا اگر ہم خدا کی تجویز پر تقدم کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 113 - 114) حضرت اقدس کو گالیاں دینے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب شخص یہ الہام کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر۔اس وقت اس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القاء ہوا کہ جب ایک نو مسلم سعد اللہ نام نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہندو زادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ جب تک ایک شخص در حقیقت شقی خبیث طینت۔فاسد القلب نہ ہو۔ایسے الفاظ استعمال نہیں کر سکتا۔سو یہ الہام اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے وقت ہوا کہ اِنَّ شَانِعَكَ هُوَ الابتر سو اگر اس ہند و زاده بد فطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل اور رسوا نہ مرا تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں۔“۔۔۔۔انجام آتھم حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 58 - 59) ”خدا تجھے دشمنوں کی شرارت سے آپ بچائے گا۔گو لوگ نہ بچاویں اور تیرا خدا قادر ہے۔وہ عرش پر 323