ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 313 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 313

صاحبزادی امت النصير (جنوری 1903ء تا دسمبر 1903ء) آپ کم سنی میں وفات پا گئیں۔شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ جب حضرت صاحب کی لڑکی امۃ النصیر فوت ہوئی تو حضرت صاحب اسے اسی قبرستان میں دفنانے کیلئے لے گئے تھے اور آپ خود اسے اُٹھا کر قبر کے پاس لے گئے۔کسی نے آگے بڑھ کر حضور سے لڑکی کو لینا چاہا مگر آپ نے فرمایا کہ میں خود لے جاؤں گا۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 203 روایت نمبر 201) صاحبزادی امة الحفیظ بیگم جون 1904ء تا 1987ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے آخری اولاد تھیں جو حضرت صاحب کی وفات کے وقت صرف تین سال گیارہ مہینے کی تھیں۔بہت ذہین تھیں حضرت اقدس بچی کا محبت سے ذکر فرماتے ہیں: ”حضرت عیسی کی نسبت لکھا ہے کہ وہ مہد میں بولنے لگے اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیدا ہوتے ہی یا دو چار مہینہ کے بولنے لگے اس سے یہ مطلب ہے کہ جب وہ چار برس کے ہوئے۔کیونکہ یہ وقت تو بچوں کے پنگھوڑوں میں کھیلنے کا ہوتا ہے اور ایسے بچے کے لئے باتیں کرنا کوئی تعجب آمیز امر نہیں ہے۔ہماری لڑکی امۃ الحفیظ بھی بڑی باتیں کرتی ہے“ (تفسیر ال عمران صفحه 35) رحیمن صاحبہ اہلیہ قدرت اللہ صاحب ریاست پٹیالہ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ روزانہ صبح سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم کی عمر اس وقت اندازاً تین سال کی تھی۔میں اور حافظ حامد علی صاحب کی لڑکی آمنہ مرحومہ امتہ الحفیظ بیگم کو باری باری اٹھا کر ساتھ لے جاتی تھیں۔چونکہ حضور بہت تیز رفتار تھے۔اس لئے ہم پیچھے رہ جاتے تھے۔تو امۃ الحفیظ بیگم ہم سے کہتیں کہ ”یا کے ساتھ ساتھ چلو“۔اس پر میں نے کہا کہ میں تھک جاتی ہوں تم حضرت صاحب سے دعا کے لئے کہنا۔اس پر صاحبزادی نے حضرت صاحب سے کہا۔آپ نے فرمایا۔”اچھا! ہم دعا کریں گے کہ یہ تم کو ہمارے ساتھ رکھے۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اور آمنہ کو اتنی طاقت دی کہ ہم صاحبزادی 313