ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 300
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام زَوْجَيْنِ رَاهُمَا إِنْسَانٌ رُقَيَّةُ وَزَوْجُهَا عُثْمَانُ - سب سے خوبصورت جوڑا جو کسی انسان نے دیکھا ہو وہ حضرت رقیہ اور ان کے شوہر حضرت عثمان ہیں۔(شرح علامہ زرقانی جزء 4 صفحہ 322 - 323 باب فی ذکر اولاده الكرام، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان نے ارضِ حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ رقیہ کو بھی ہمراہ لے جاؤ۔میرا خیال ہے کہ تم میں سے ایک اپنے ساتھی کا حوصلہ بڑھاتا رہے گا۔یعنی دونوں ہوں گے تو ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہو گے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء بنت ابو بکر کو فرمایا کہ جاؤ اور ان دونوں کی خبر لاؤ کہ چلے گئے ہیں؟ کہاں تک پہنچے ہیں؟ کیا حالات ہیں باہر کے؟ حضرت اسماء جب واپس آئیں تو حضرت ابو بکر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت عثمان ایک خچر پر پالان ڈال کر حضرت رقیہؓ کو اس پر بٹھا کر سمندر کی طرف نکل گئے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر ! حضرت لوط اور حضرت ابراہیمؑ کے بعد یہ دونوں ہجرت کرنے والوں میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔(مستدرک جزء 4 صفحه 414 کتاب معرفۃ الصحابه باب ذکر رقیہ بنت رسول اللہ حدیث 6999 دار الفكر۔بیروت (2002 حضرت عثمان حبشہ میں چند سال رہے۔اس کے بعد جب بعض صحابہ قریش کے اسلام کی غلط خبر پا کر اپنے وطن واپس آئے تو حضرت عثمان بھی آگئے۔یہاں آ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے۔اس بنا پر بعض صحابہ پھر حبشہ کی طرف لوٹ گئے مگر حضرت عثمان مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ مدینہ کی ہجرت کا سامان پیدا ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام صحابہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا ارشاد فرمایا تو حضرت عثمان بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے۔(سیر الصحابہ جلد اوّل (خلفائے راشدین) صفحہ 178 ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور پاکستان) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت عثمان کو اپنی بیٹی حضرت رقیہ کے پاس چھوڑا۔وہ بیمار تھیں اور انہوں نے اس روز وفات پائی جس دن حضرت زید بن حارثہ مدینہ کی طرف اس فتح کی خوشخبری لے کر آئے جو بدر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی ال ولیم کو عطا فرمائی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء الثالث صفحه 32 ، عثمان بن عفان، دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء) 300