ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 299
اٹھائی۔آپ کو اپنی نواسی امامہ سے بھی بہت محبت تھی وہ جو نماز پڑھتے ہوئے بچی کو اٹھانے کا واقعہ ہے وہ امامہ ہی تھیں کھڑے ہوتے تو اسے گود میں اٹھا لیتے اور سجدے میں جاتے تو ایک طرف بٹھا دیتے ایک دفعہ نجاشی نے کچھ تحائف بھیجے تو ان میں ایک قیمتی انگوٹھی بھی تھی جو آپ نے امامہ کو عنایت فرمائی اسی طرح کسی نے ایک مرتبہ بہت ہی بیش قیمت اور انتہائی خوبصورت ایک بار نذر کیا تو آپ صلی ایم نے یہ فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو پہناؤں گا جو میرے گھر والوں میں مجھ کو سب سے زیادہ پیاری ہے یہ فرما کر آپ میلی لیم نے یہ قیمتی ہار اپنی نواسی امامہ کے گلے میں ڈال دیا۔سیده زینب آپ کی زندگی ہی میں پرانے زخموں کے ہرا ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔آنحضور صلی ا یم نے بہت صدمہ محسوس فرمایا تجہیز و تکفین کے بارے میں ہدایات دیں اپنا تہہ بند ان کے کفن کے لئے دیا اور نماز جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کو قبر میں اتارا۔آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی غمگین دل کے ساتھ فرمایا ”میں نے زینب کے ضعف کے خیال سے اللہ سے دعا کی ہے کہ اے اللہ ! اس کی قبر کی تنگی اور غم کو ہلکا کر دے اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرلی اور اس کے لئے آسانی پیدا کر دی ہے“ آپ نے وفات پر وفور غم سے رونے والوں کو منع نہیں فرمایا بلکہ بین کرنے سے منع فرمایا۔”وہ دکھ جو آنکھ اور دل سے ظاہر ہو وہ اللہ کی طرف سے ایک پیدا شدہ جذبہ ہے اور رحمت اور طبعی محبت کا نتیجہ ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ظاہر ہو وہ شیطانی فعل ہے“ حضرت سیدہ رقیہ ย حضرت سیدہ رقیہ آنحضرت صلی ایم کی دوسری صاحبزادی تھیں۔آپ کے اعلانِ نبوت سے سات سال قبل حضرت خدیجہ کے بطن سے پیدا ہو ئیں۔اپنی والدہ کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔حضرت رقیہ کا پہلا رشتہ ابولہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا مگر اس نے رخصتی سے قبل ہی اسلام دشمنی میں طلاق دے دی۔اس کے بعد آپ کی شادی حضرت عثمان بن عفان سے ہوئی۔رسول اللہ صل الله علم اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے۔وہ اس وقت حضرت عثمان کا سر دھو رہی تھیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی رہو۔یقینا یہ میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔) المعجم الكبير للطبراني جزء صفحہ 76 حدیث 98 دار احیاء التراث العربي 2002ء ) حضرت رقیہ اور حضرت عثمان دونوں ہی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اَحْسَنَ 299