ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 293 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 293

غرض یہ کہ آپ نے اخلاق کا وہ پہلو دُنیا کے سامنے پیش کیا۔جو معجزانہ تھا۔سراپا حسن تھے۔سراسر احسان تھے اور اگر کسی شخص کا مثیل آپ کو کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم آپ کے اخلاق کے اس بیان کے وقت قریباً ہر خلق کے متعلق میں نے دیکھا کہ میں اسکی مثال بیان کر سکتا ہوں۔یہ نہیں کہ میں نے یونہی کہہ دیا ہے۔میں نے آپ کو اس وقت دیکھا۔جب میں دو برس کا بچہ تھا۔پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ستائیس سال کا جوان تھا۔مگر میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں۔کہ میں نے آپ سے بہتر ، آپ سے زیادہ خلیق، آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دُنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت مصل الم کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی۔کہ ”کان خلقه القرآن“ تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ ” كان خلقه حُبّ محمد و اتباعہ علیہ الصلوۃ والسلام “ (سیرت المہدی حصہ سوم اول صفحہ 826) صداقت کے گواہ متعصب آریہ لاله شرم پت اور لالہ ملاوامل سلسلہ بیعت سے بہت پہلے کے حاشیہ نشین تھے۔متعدد نشانوں کے عینی گواہ بنے۔حضرت اقدس نے کئی نشانوں میں ان کو شہادت کے لئے مخاطب کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی تیار کروانی چاہی تو اس کے لئے بھی آپ نے لالہ ملاوامل کو روپیہ دے کر امر تسر بھیجا تھا۔چنانچہ لالہ ملاوامل امر تسر سے یہ انگوٹھی قریباً پانچ روپے میں تیار کروا کر لائے تھے۔حضرت صاحب نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ میں نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ لالہ ملاوامل اس الہام کا پوری طرح شاہد ہو جاوے چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی کتب میں اس پیشگوئی کی صداقت کے متعلق بھی لالہ ملا وامل کو شہادت کے لئے بلایا ہے۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 146 روایت (152) 293