ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 29
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام دہلی کا سفر اور مولوی نذیر حسین سے مباحثہ دہلی اس زمانہ میں تمام ہندوستان کا علمی مرکز سمجھا جاتا تھا۔آپ 28 ستمبر 1891ء کی صبح کو وہاں پہنچے۔وہاں کے لو گوں میں پہلے سے ہی آپ کے خلاف جوش پھیلایا جاتا تھا آپ کے وہاں پہنچتے ہی وہاں کے علماء میں ایک جوش پیدا ہوا اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کے چیلنج دینے شروع کیے اور مولوی نذیر حسین جو تمام ہندوستان کے علماء حدیث کے اُستاد تھے، اُن سے مباحثہ قرار پایا۔مسجد جامع مقام مباحثہ قرار پائی لیکن مباحثہ کی یہ سب قرار داد مخالفین نے خود ہی کر لی۔کوئی اطلاع آپ کو نہ دی گئی۔عین وقت پر حکیم عبدالمجید خان صاحب دہلوی اپنی گاڑی لے کر آگئے اور کہا کہ مسجد میں مباحثہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسے فساد کے موقعہ پر ہم نہیں جا سکتے جب تک پہلے سر کاری انتظام نہ ہو، پھر مباحثہ کے لیے ہم سے مشورہ ہونا چاہیے تھا اور شرائط مباحثہ کے کرنی تھیں۔آپ کے نہ جانے پر اور شور ہوا۔آخر آپ نے اعلان کیا کہ مولوی نذیر حسین دہلوی جامع مسجد میں قسم کھا لیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام قرآن کی رُو سے زندہ ہیں اور اب تک فوت نہیں ہوئے اور اس قسم کے بعد ایک سال تک کسی آسمانی عذاب میں مبتلا نہ ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور میں اپنی کتب کو جلا دوں گا اور اس کے لیے تاریخ بھی مقرر کر دی۔مولوی نذیر حسین صاحب کے شاگرد اس سے سخت گھبرائے اور بہت رو کیں ڈالنی شروع کر دیں لیکن لوگ مصر ہوئے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ مرزا صاحب کادعویٰ سن کر قسم کھا جائیں کہ یہ جھوٹا ہے اور لوگ اُس وقت کثرت سے جامع مسجد میں اکٹھے ہو گئے۔حضرت صاحب کو لوگوں نے بہت رو کا کہ آپ نہ جائیں سخت بلوہ ہو جائے گا لیکن آپ وہاں گئے اور ساتھ آپ کے بارہ دوست تھے۔(حضرت مسیح کے بھی بارہ ہی حواری تھے۔اس موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ تعداد بھی ایک نشان تھی) جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر آدمیوں سے پر تھی بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے گزر کر جب کہ سب لوگ دیوانہ وار خون آلود نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے آپ اس مختصر جماعت کے ساتھ محراب مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔مجمع کے انتظام کے لیے سپر نٹنڈنٹ پولیس مع دیگر افسران پولیس اور قریباً سو کانسٹیبلوں کے آئے ہوئے تھے۔لو گوں میں سے بہتوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور ادنیٰ سے اشارے پر پتھراؤ کرنے کو تیار تھے اور مسیح ثانی بھی پہلے مسیح کی طرح فقیہیوں اور فریسیوں کا شکار ہو رہا تھا۔لو گ اس دوسرے مسیح کو سولی پر لٹکانے کی بجائے پتھروں سے مارنے پر تلے ہوئے تھے اور گفتگوئے مباحثہ میں تو انہیں ناکامی ہوئی۔مسیح کی وفات پر بحث کرنا لوگوں نے قبول نہ کیا۔قسم بھی نہ کسی نے کھائی نہ مولوی نذیر حسین 29