ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 283 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 283

فرمایا: ” کیا یہودی انسان نہیں ہوتے! اور کیا ان میں خدا کی پیدا کی ہوئی جان نہیں؟“ ( بخاری کتاب الجنائز باب مَنْ قَامَ لِجُنَازَةِ ليَهودى ) (مسند احمد بن حنبل جلد 6 ) ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم علی ایم کے ساتھ کئی سفر کئے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے کسی انسان کی نعش پڑی دیکھی ہو اور اسے دفن نہ کروایا ہو۔کبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ مسلمان ہے یا کافر۔(اسوہ انسان کامل از حافظ مظفر احمد صفحه 542 مطبوعہ لاہور 2004ء) غزوہ احزاب میں ایک مشرک سردار نوفل بن عبداللہ خندق میں گر کر ہلاک ہو گیا۔مشرکین مکہ نے اس کی لاش کے بدلے دس ہزار درہم کی پیش کش کی۔آں حضرت صلی علی کریم نے فرمایا: ان کا مردہ واپس لوٹا دو، ہمیں نہ اس کے جسم کی ضرورت ہے اور نہ قیمت کی۔اسوه انسان کامل از حافظ مظفر احمد صفحه 543 مطبوعہ لاہور 2004ء) اسی طرح بنو قریظہ کو جب ان کی سرکشی کی سزا دی گئی تو ان کی نعشوں کو خندقیں کھدوا کر دفن کیا گیا۔( السيرة النبوية لابن هشام، الجزء الثالث صفحه 156، دار الجيل بيروت لبنان) حضور صلی الم نے قبروں کو بد نیتی اور بے حرمتی کے طور پر اکھیڑ نے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔حضور صلی اللہ کا حکم تھا کہ کسی مخالف کی نعش کا مثلہ نہ کیا جائے۔(موطا امام مالك ، جنائز، باب ما جاء في الاختفاء وهو النبش ) جنگ بدر میں اور جنگ احد میں آپ نے کفار کی نعشوں کی تدفین کروائی اور ایک ہی میدان میں مسلمانوں اور کافروں کی تدفین ہوئی، وقت کی تنگی کی وجہ سے جس طرح کئی مسلمان شہداء کو ایک ہی قبر میں دفن کروایا گیا اسی طرح کفار کی نعشوں کو بھی ایک ہی جگہ دفن کروایا۔( السيرة الحلبية ، تأليف على ابن برهان الدين الحلبي الشافعى الجزء الثانی صفحہ 190، مطبعة محمد علی صبیح و اولاده بميدان الازهر بمصر 1935ء ) 283