ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 260 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 260

نہیں کر سکا تو جنت تک پہنچے کے لئے ایسے شخص کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 321) والد جنت میں داخلے کا بہترین دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو اکھاڑ دو یا اس کی حفاظت کرو۔“ ( سنن ابن ماجہ ، کتاب الادب رقم الحدیث (543) جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اس کا رزق بڑھا دیا جائے تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔“ ( الجامع لشعب الايمان جلد 10 صفحه 264 265 باب بر الوالدین حدیث 7471 مكتبة الرشد ناشرون الرياض 2004ء) اللہ بزرگ و برتر ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میں رحمان ہوں میں نے رحم یعنی رشتے ناتے کو پیدا کیا ہے اور اس کے نام کو اپنے نام یعنی رحمن کے لفظ سے نکالا ہے، لہذا جو شخص رحم کو جوڑے گا یعنی رشتہ ناتا کے حقوق ادا کرے گا تو میں بھی اس کو جوڑوں گا اور جو شخص رحم کو توڑے گا یعنی رشتے ناتے کے حقوق ادا نہیں کرے گا میں بھی اس کو جدا کردوں گا“ (ابوداود، مشکوة: 420) عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضور کی خدمت میں عرض کی کہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں۔فرمایا: کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں زندہ ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔(صحیح البخاری کتاب الجهاد والسير باب الجهاد باذن الابوين حدیث 3004) نبی اکرم کی یام کے پاس ایک آدمی آیا۔اس نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو یمن سے اپنی پیٹھ کر اٹھا کر حج کرایا ہے، اسے اپنی پیٹھ پر لئے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اسے لئے ہوئے عرفات گیا، پھر اسی حالت میں اسے لئے ہوئے مزدلفہ آیا اور منی میں کنکریاں ماریں۔وہ نہایت بوڑھی ہے ذرا بھی حرکت نہیں کر سکتی۔میں نے یہ سارے کام اُسے اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے سر انجام دئے ہیں تو کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ کی تعلیم نے فرمایا: ”نہیں، اس کا حق ادا نہیں ہوا۔اس آدمی نے پوچھا: ”کیوں“۔آپؐ نے فرمایا: ”اس لئے کہ اس نے تمہارے بچپن میں 260