ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 259
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 35 والدین کے احترام کی تلقین اور عمل والدین کے احترام اور احسان کے سلوک کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد ہے: ”اور تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ بہت احسان کرو“ (النساء: 37) اور تیرے رب نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی، تو اُنہیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔اور ان دونوں کے لئے رحم سے عجز کا پر جھکا دے اور کہہ کہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی۔“ والدین کی اطاعت کے بارے میں آنحضرت صلی الم نے بہت تاکید فرمائی: (بنی اسرائیل: 24-25) ”خدا کی رضا والد کی رضا میں مضمر ہے اور خدا کی ناراضگی میں پوشیدہ والد کی ناراضگی۔66 (شعب الایمان للبيهقي ) اللہ تعالیٰ سب گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے۔وہ اس فعل کے مر تکب کو مرنے سے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے“ (مشكوة كتاب الادب باب البر والصله ) وو " من ادرك احد والديه ثم لم يغفر له فابعده الله عز وجل “ (ابن کثیر جلد 6 صفحہ 61) یعنی جس شخص کو اپنے والدین میں سے کسی کی خدمت کا موقع ملے اور پھر بھی اس کے گناہ نہ معاف کئے جائیں تو خدا اس پر لعنت کرے مطلب یہ کہ نیکی کا ایسا اعلیٰ موقعہ ملنے پر بھی اگر وہ خدا کا فضل حاصل 259