ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 247 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 247

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ملہم اور مخاطب الہی ہیں۔صدہا سچے الہام اور مخاطبات اور پیشگوئیاں اور رؤیاء صالحہ اور امر الہی اور اشارات و بشارات اجراء کتاب اور فتح و نصرت اور ہدایات امداد کے باب میں زبان عربی، فارسی، اردو وغیرہ میں جو مصنف صاحب کو بہ تشریح تمام ہوئے ہیں، مشرح و مفصل اس کتاب میں درج ہیں اور بعض الہامات زبان انگریزی میں بھی ہوئے ہیں۔حالا نکہ مصنف صاحب نے ایک لفظ بھی انگریزی کا نہیں پڑھا۔چنانچہ صدہا مخالفین اسلام کی گواہی سے ثابت کر کے کتاب میں درج کئے گئے ہیں، جن سے بخوبی صداقت پائی جاتی ہے اور یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے، کہ مصنف صاحب بے شک امر الہی سے اس کتاب کو لکھ رہے ہیں اور صاف ظاہر ہوتا ہے بموجب حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا ( رواه ابو داؤد ) جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر صدی کے شروع میں ایک مجدد منجانب اللہ پیدا ہوتا ہے تو تمام مذاہب باطلہ کے ظلمات کو دور کرتا ہے اور دین محمدی کو منور اور روشن کرتا ہے۔ہزار ہا آدمی ہدایت پاتے ہیں اور دین اسلام ترو تازہ ہو جاتا ہے۔مصنف صاحب اس چودھویں صدی کے مجدد اور مجتہد اور محدث اور کامل مکمل افراد امت محمدیہ میں سے ہیں اور دوسری حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یعنی عُلَمَاء أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بني اسرا اپیل اسی کی تائید میں ہے۔“ حضور کے ذکرِ خیر میں آپ مزید تحریر فرماتے ہیں: اے ناظرین! میں سچی نیت اور کمال جوش صداقت سے التماس کرتا ہوں کہ بے شک و شبہ جناب میرزا صاحب موصوف مجدد وقت اور طالبان سلوک کے واسطے کبریت احمر اور سنگ دلوں کے واسطے پارس اور تار یک باطنوں کے واسطے آفتاب اور گمراہوں کے لئے خضر اور منکران اسلام کے واسطے سیف قاطع اور حاسدوں کے واسطے حجتہ بالغہ ہیں۔یقین جانو کہ پھر ایسا وقت ہاتھ نہ آئے گا۔آگاہ ہو کہ امتحان کا وقت آ گیا ہے اور حجت الہی قائم ہو چکی ہے اور آفتاب عالم تاب کی طرح بدلائل قطعیہ ایسا بادی کامل بھیج دیا ہے کہ سچوں کو نور بخشے اور ظلمات ضلالت سے نکالے اور جھوٹوں پر حجت قائم کرے، تا کہ حق و باطل چھٹ جائے اور خبیث و طیب میں فرق بین ظاہر ہو جائے اور کھوٹا کھرا پر کھا جائے۔“ نیز آپ نے اپنی خداداد فراست سے یہ بھی پہچان لیا کہ یہ شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا۔لہذا یہ شعر کہا: ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے اخبار الفضل 23 جون 1931ء صفحہ 5 – 7) 247