ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 246 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 246

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولوی ظفر علی خاں صاحب کے والد اور اخبار زمیندار کے بانی منشی سراج الدین احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں لکھا: ”ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔عوام سے کم ملتے تھے۔1877ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔ان دنوں میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محو و مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔“ اخبار (اخبار زمیندار مئی 1908ء بحوالہ بدر 25 جون 1908ء صفحہ 13 کالم نمبر 1 - 2) و کیل امر تسر نے لکھا: "کیر یکٹر کے لحاظ سے ہمیں مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا ایک چھوٹا سا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔غرض کہ مرزا صاحب کی زندگی کے ابتدائی پچاس سالوں نے کیا بلحاظ اخلاق و عادات اور پسندیدہ اطوار، کیا بلحاظ مذہبی خدمات و حمایت دین مسلمانانِ ہند میں اُن کو ممتاز بر گزیدہ اور قابلِ رشک مر تبہ پر پہنچایا۔“ (اخبار وکیل 30 مئی 1908ء صفحہ 1 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 563 جدید ایڈیشن) میں حضرت مسیح موعود نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں نشان نمائی کی دعوت تھی۔ریاست جموں کے شاہی طبیب حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروٹی اس اشتہار کو دیکھتے ہی حضرت اقدس کی زیارت کے لئے قادیان تشریف لے آئے۔حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میری بیعت لے لیں۔آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اس معاملہ میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔اس پر حضرت مولانا نے عرض کیا کہ پھر حضور وعدہ فرمائیں کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم آجائے تو سب سے پہلے میری بیعت لی جائے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔(حیات نور از عبد القادر سوداگر مل صفحہ 117) حضرت مسیح موعود کے اسلام کے دفاع کے مداح ایک بزرگ حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوٹی تھے۔براہین احمدیہ کے تین حصوں پر پر تبصرے میں والہانہ عقیدت کا انداز نظر آتا ہے۔” یک ایسی کتاب اور ایک ایسے مجدد کی بے شک ضرورت تھی جیسی کہ کتاب براہین احمدیہ اور اس کے مؤلف جناب مخدومنا مولانا میرزا غلام احمد صاحب دام فیوضہ ہیں۔جو ہر طرح سے دعوئی اسلام کو مخالفین پر ثابت فرمانے کے لئے موجود ہیں۔جناب موصوف عامی علماء اور فقرا میں سے نہیں بلکہ خاص اس کام پر منجانب اللہ مامور اور 246