ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 245
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کرنے لگے۔خطوط لکھ کر آپ کے خیالات کو سراہنے اور اپنے مسائل کا حل پوچھنے لگے۔اہل حدیث فرقہ کے معروف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں براہین احمدیہ پر ریویو تحریر کیا جس میں حضرت اقدس کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی نیز خاندانی شرافت اور بزرگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ”ہم اس قدر کہنے سے باز ہر گز نہیں رہ سکتے کہ اگر یہ معاملہ گورنمنٹ تک پہنچتا تو یقین تھا کہ ہماری زیرک اور دانشمند گورنمنٹ ایسے مفسدوں کو جنہوں نے بحق ایسے شریف خاندانی کے جو ایک معزز نیک نام و خیر خواہ سر کار کا بیٹا ہے اور خود بھی سر کار کا دلی خیر خواه و شکر گزار و دعا گو ہے اور درویشی و غربت سے زندگی بسر کرتا ہے ایسا مفسدانہ افترا کیا اور بہت لوگوں کے دلوں کو آزار پہنچایا ہے، سخت سزا دیتی۔“ (اشاعۃ السنہ نمبر 7 جلد 7 صفحہ 193) نیز دعا کی: ”اے خدا! اپنے طالبوں کے رہنما ان پر ان کی ذات سے ان کے ماں باپ سے تمام جہانوں کے مشفقوں سے زیادہ رحم فرما۔تو اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے اور اس کی برکات سے ان کو مالا مال کر دے اور کسی اپنے صالح بندے کے طفیل اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض و انعامات اور اس کے آب کی اخص برکات سے فیض یاب کر آمین۔“ (اشاعۃ السنہ نمبر 11 جلد 7 صفحہ 348) مولوی صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) دلی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب واپس بٹالہ آئے تو اگرچہ ایک عالم کی حیثیت سے ہندوستان بھر میں مشہور ہو گئے اور ہر جگہ ان کا طوطی بولنے لگا۔مگر اس وقت بھی ان کی حضور سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ حضور کا جو تا آپ کے سامنے سیدھا کر کے رکھتے اور اپنے ہاتھ سے آپ کا وضو کرانا موجب سعادت قرار دیتے تھے۔چنانچہ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کا چشم دید واقعہ ہے کہ: ”دعوئی سے پہلے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مکان واقعہ بٹالہ پر تشریف فرما تھے۔میں بھی خدمت اقدس میں حاضر تھا۔کھانے کا وقت ہوا تو مولوی صاحب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ دھلانے کے لئے آگے بڑھے۔حضور نے ہر چند فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نہ دھلائیں مگر مولوی صاحب نے باصرار حضور کے ہاتھ دھلائے اور اس خدمت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 124 طبع اوّل) 245