ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 240
الله سة ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ساتھ بچپن سے کھیلے پلے بڑھے یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کے دوست ہمیشہ ہر حالت میں سچ کہتے اور سچ کی تلقین کرتے ہیں۔کبھی جھوٹ بول ہی نہیں سکتے یہی وجہ تھی کہ جب آپ کے دعوئی کے بارے میں سنا تو آپ کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں چاہی۔آپ نے آنحضرت صلی للی نام سے صرف یہی پوچھا کہ کیا آپ نے دعویٰ کیا ہے؟ آنحضرت صلی تعلیم نے وضاحت کرنی چاہی تو ہر بار یہی عرض کی کہ مجھے صرف ہاں یا نہ میں بتا دیں اور آنحضور ملی ایم کے ہاں کہنے پر عرض کیا کہ میرے سامنے تو آپ کی ساری سابقہ زندگی پڑی ہوئی ہے۔میں کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ بندوں سے تو سچ بولنے والا ہو اور اس کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والا ہو اور خدا پر جھوٹ بولے۔الله دلائل النبوة للبيهقى جماع ابواب المبعث باب من تقدم اسلامه من الصحابة۔۔۔) دشمن کی گواہی اس لحاظ اہم ہوتی ہے کہ وہ تو وار کرنے کے لئے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔مگر آپ صلی میری کمی کا کردار اس قدر شفاف تھا کہ اس پر داغ لگانا مشکل تھا۔ایک مرتبہ سر داران قریش جمع ہوئے جن میں ابو جہل اور اشد ترین دشمن نضر بن حارث بھی شامل تھے۔تو حضور صلی ا کریم کے بارے میں جب کسی نے یہ کہا کہ انہیں جادو گر مشہور کر دیا جائے یا جھوٹا قرار دے دیا جائے تو نضر بن حارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔اے گروہ قریش! ایک ایسا معاملہ تمہارے پلے پڑا ہے جس کے مقابلے کے لئے تم کوئی تدبیر بھی نہیں لا سکے۔محمد ال ل ل لم تم میں ایک نوجوان لڑکے تھے اور تمہیں سب سے زیادہ محبوب تھے۔سب سے زیادہ سچ بولنے والے تھے۔تم میں سب سے زیادہ امانتدار تھے۔اب تم نے ان کی کنپٹیوں میں عمر کے آثار دیکھے اور جو پیغام وہ لے کر آئے تم نے کہا وہ جادو گر ہے۔ان میں جادو کی کوئی بات نہیں۔ہم نے بھی جادو گر دیکھے ہوئے ہیں۔تم نے کہا وہ کاہن ہے۔ہم نے بھی کاہن دیکھے ہوئے ہیں۔وہ ہر گز کاہن نہیں ہیں۔تم نے کہا وہ شاعر ہیں، ہم شعر کی سب اقسام جانتے ہیں وہ شاعر نہیں ہے۔تم نے کہا وہ مجنون ہے، ان میں مجنون کی کوئی بھی علامت نہیں ہے۔اے گروہ قریش! مزید غور کر لو کہ تمہار اواسطہ ایک بہت بڑے معاملے سے ہے۔( السيرة النبوية لابن هشام ما دار بين رسول اللہ صلی تیم و بین روساء قريش۔۔۔نصيحة النصر لقريش بالتدبر۔۔) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابو جہل نے نبی صلی لی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے۔البتہ ہم اس تعلیم کو جھوٹا سمجھتے ہیں جو تم پیش کرتے ہو۔جب عقل پر پردے پڑ جائیں، کسی کی مت ماری جائے تو تبھی تو وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ 240