ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 203
حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ آئی ہے اور آپ کی اللی علم کا یہ دستور تھا کہ گھر میں کبھی کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں بھیجوانے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خدیجه ) ام المؤمنین حضرت سودہ کی آپ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے مبارک الفاظ کو حرز جان بنا لیتیں۔اطاعت و فرمانبرداری میں خوشی محسوس کرتیں ایک دفعہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے بعد گھر میں ہی رہنا حضرت سودہ نے اس پر سختی سے عمل کیا پھر کبھی گھر سے نہ نکلیں کوئی سفر نہ کیا حتی کہ حج بھی نہ کیا فرماتی تھیں، میں نے حج بھی کر لیا ہے اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کرلی ہے اب میں اپنے گھر میں ہی رہوں گی جیسا کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے آنحضور صلی الم کی محبت میں آپ نے اپنا حق بھی چھوڑ دیا سمجھدار خاتون تھیں اندازہ تھا کہ آپ حضرت عائشہ کے ساتھ خوش رہتے ہیں اس خوشی کی خاطر اپنی باری کا دن بھی حضرت عائشہؓ کے ساتھ گزارنے کی اجازت دے دی۔(سير الصحابيات صفحہ 33) ام المؤمنین حضرت عائشہ زمانہ ماموریت میں آپ کے ساتھ رہیں اور آپ کے حسن اخلاق کی گواہی اس طرح دی کہ قرآن ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق تھا۔(مسند احمد : 25108) حضرت عائشہ کم عمر تھیں آپ نے اس کا لحاظ رکھا گڑیوں سے کھیلنے دیا سہیلیوں سے ملنے دیا۔ان کے بہت ناز اٹھاتے تھے۔ایک دفعہ کچھ فوجی نیزہ بازی کا مظاہرہ کر رہے تھے رسول اللہ صلی علی کریم نے یہ کھیل دکھانے کے لئے حضرت عائشہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور آپ دیر تک دیکھتی رہیں۔آپ نے کھیل دیکھنے کے دوران کس بات کا لطف لیا، بیان کرتی ہیں کہ میں دیر تک آپ کے پیچھے آپ کے کندھے پر ٹھوڑی رکھے آپ کے رخسار سے رخسار ملا کر کھڑی رہی آپ میرا بوجھ سہارے کھڑے رہے۔کیسا دونوں طرف سے پیار کا اظہار تھا۔عطاء روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابن عمر اور عبید اللہ بن عمر کے ساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی کہ مجھے آنحضرت صلی 203