ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 202
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کر دیا۔اب گھر میں میاں بیوی تھے۔حضرت خدیجہ کو کھانا پکا نا تو کیا چولھا جلانے کی عادت نہیں تھی۔دونوں نے مل کر آگ جلائی کھانا پکایا اور ایک محبت بھرے گھر کی شروعات کیں اب حضرت خدیجہ اس آمد میں گزارا کرتیں جو ان کے شوہر کما کر لاتے اس میں بہت سکون تھا۔حضرت خدیجہ ایک زیرک خاتون تھیں۔انہوں نے آپ میں اپنے خالق و مالک کی غیر معمولی محبت دیکھی پھر وہ آپ کے اپنے معبود کی یاد میں حائل نہ ہو تیں۔آپ گھر سے دور غار حرا میں وقت گزارنے لگے آپ کے لئے کھانا تیار کر کے دیتیں کبھی زیادہ دن ہو جاتے تو پریشان ہو تیں یہ سوچ کر کہ کھانا ختم ہو گیا ہو گا کھانا دے آتیں۔ایک گھر واپس آئے تو خوف کا عالم تھا بدن پر کپکپی طاری تھی آپ نے کمبل اوڑھایا۔جب ذرا طبیعت سنبھلی تو بیوی کو بتایا کہ آج ایک فرشتہ غار حرا میں میرے رب کا پیغام لے کر آیا تھا۔انہونی سی بات سن کر بیوی کو کوئی بھی خیال آسکتا تھا۔مگر وہ پل پل کی واقف مزاج شناس اور مدبر خاتون تھیں شادی دن کے پندرہ سال میں آپ کی افتاد طبع سے واقف تھیں، تسلی دیتے ہوئے کہتی ہیں: ”اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اللہ کی قسم! آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، آپ کمزور و ناتواں کا بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں، جنہیں کہیں سے کچھ نہیں ملتا وہ آپ کے یہاں سے پا لیتے ہیں۔آپ مہمان نواز ہیں اور حق کے راستے میں پیش آنے والی مصیبتوں پر لو گوں کی مدد کرتے ہیں۔“ (بخاری بدء الوحي باب (1) حضرت خدیجہ نے وہ سارے مراحل دیکھے جو نبوت کا مقام ملنے سے پہلے آپ پر گزرے تھے اور نبوت پر ایمان لانے والی پہلی خاتون تھیں ہر طرح آپ کا ساتھ دیا۔ایک مضبوط سہارا بن کر ساتھ رہیں۔آپ سے آنحضور کو اولاد عطا ہوئی۔اس پر خلوص ساتھی کی موجودگی میں آپ نے کوئی دوسری شادی نہیں کی بلکہ بعد میں بھی کافی عرصہ نہیں کی۔آپ کی پچیس سالہ رفاقت کو ساری زندگی محبت سے یاد کرتے رہے ان کے اوصاف بیان کرتے۔آپ نے شعب ابی طالب کی سختیوں میں خوب ساتھ نبھایا۔آپ کی وفات والے سال کو عام الحزن قرار دیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ”مجھے نبی کریم کی کسی دوسری زندہ بیوی کے ساتھ اس قدر غیرت نہیں ہوئی جتنی حضرت خدیجہ سے ہوئی حالانکہ وہ میری شادی سے تین سال قبل وفات پاچکی تھیں۔“ (بخاری کتاب الادب باب حسن العهد من الايمان ) 202