ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 193
جہاد بالقلم حضرت نبی اکرم کی کام کے روشن سنہرے دور پر صدیاں گزرتی گئیں۔اسلام کی حالت نبی سے دوری پر کمزور ہوتی گئی اور طاغوتی طاقتیں بتدریج ان پر تسلط حاصل کرتی رہیں۔چودہ سو سال ہوگئے بحر و بر میں فساد پھیل گیا۔تو اللہ تعالیٰ نے پیش خبریوں کے مطابق اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اپنی تائید و نصرت کے ساتھ ایک فنا فی الله جری اللہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو نبیوں کے لبادہ میں شیطان سے جنگ روحانی کے لئے بھیجا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کی۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: اس نے آپ اپنے مکالمہ میں اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا اور میں کبھی امید نہیں کر سکتا کہ وہ حملے بغیر ہونے کے رہیں گے گو ان کا ظہور میرے اختیار میں نہیں۔میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سچا ہوں۔پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہو ایسی شجاعت کبھی نہیں دکھاتا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور ان باتوں کا دعویٰ کرے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں جو شخص قوت اور استقامت کے ساتھ ایک دنیا کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے کیا وہ آپ سے کھڑا ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ وہ اس ذات قدیر کی پناہ سے اور ایک غیبی ہاتھ کے سہارے سے کھڑا ہوتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام زمین و آسمان اور ہر ایک روح اور جسم ہے سو آنکھیں کھولو اور سمجھ لو کہ اس خدا نے مجھ عاجز کو یہ قوت اور استقامت دی ہے جس کے مکالمہ سے مجھے عزت حاصل ہے۔“ آسمانی فیصله، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 333) مجھے اُس خدائے کریم و عزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کا نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اُس کے حکم سے کھڑا ہواہوں اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کر لے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے“ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اربعین حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 348) ”میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں 193