ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 186 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 186

میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رُک نہیں سکتا آپ کے والد صاحب، والدہ صاحبہ اور دادا جان کی وفات کے بعد چچا جان سہارا بنے تھے اور اب یہ محسن چچا ابو طالب اپنے ہاتھوں کے پالے آنحضرت صلی عملی کام سے ملکہ کے سب سرداروں کے اصرار اور دباؤ پر ایک فرمائش کر رہے تھے۔”اے میرے بھتیجے! اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی، تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کہ شر البریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقود النار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی علیم نے جواب میں کہا کہ اے چچا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رک نہیں سکتا اور اے چا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبر دار ہو جا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔بخدا! اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہاء لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت صلی کی یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ کی یہ تقریر ختم کرچکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگا رہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیر اساتھ دوں گا“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 110 - 111) 186