ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 177
ایک زمین کے متعلق مقدمہ بازی شروع کر دی۔وہ جگہ دراصل حضرت ہی کی تھی، حکیم فضل الدین صاحب کو دے دی گئی سو اس جولاہا نے حکیم صاحب مرحوم کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر دیا۔چونکہ حضرت اقدس پسند نہ فرماتے تھے کہ شرارتوں کا مقابلہ کیا جاوے، آپ نے حکیم فضل الدین صاحب کو حکم دیا کہ جوابدہی چھوڑ دو۔زمینوں کی پروا نہیں خدا تعالیٰ چاہے گا تو آپ ہی دے دے گا، زمین خدا کی ہے۔مرزا نظام الدین صاحب کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ آپ اپنے حق کو تو چھوڑ تے ہیں، چنانچہ انہوں نے ایک پر امیری نوٹ بھی لکھ کر بھیج دیا۔حضرت نے فرمایا کہ مرزا نظام الدین صاحب ہی کو یہ ٹکڑا زمین کا دے دیا جاوے۔چنانچہ وہ قطعہ زمین کا دے دیا گیا۔جو بعد میں مرزا صاحب موصوف نے ایک معقول قیمت پر حضرت کے ایک خادم کے ہاتھ فروخت کر دیا۔مگر حضرت نے کبھی اس زمین کی قیمت یا پرامیسری نوٹ کی رقم کا مطالبہ نہ فرمایا۔اس لئے کہ آپ کی فطرت میں ہی احسان و مروّت رکھی گئی تھی۔یہ واقعہ ایسے وقت کا ہے کہ اس مقدمہ کی کل کارروائی ختم چکی تھی۔حضرت مسیح موعود کو بھی فریق ثانی نے بطور شہادت طلب کرایا تھا اور اس طرح پر آپ کو اور آپ کی جماعت کو تکلیف رسانی میں کمی نہ کی تھی۔مقدمہ کی حالت یہ تھی کہ اس میں اب حکم سنانا باقی تھا اور وہ ہمارے حق میں تھا۔مگر آپ نے ایسے وقت میں اس زمین کو مرزا نظام الدین صاحب کے عرض کرنے پر ان کو دے دیا۔امر واقعہ کے طور پر یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ سلسلہ کے ابتدائی ایام میں مرزا نظام الدین صاحب اور اُن کے زیر اثر لوگوں کی وجہ سے ہماری جماعت کو ایسی تکالیف پہنچ چکی تھیں کہ قدرتی طور پر کوئی دُنیا دار اُن کے مقابلہ میں ہوتا تو اُن کی تکلیف اور ایذاءر سانی کے لئے منتقمانہ طور پر جو چاہتا کرتا مگر نہیں حضرت مسیح موعود کو جب موقع ملا اور اُن پر ایک اقتدار حاصل ہوا تو آپ نے اس طرح لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ دیا۔جس طرح پر سید الرسل صلی الم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا۔از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 119 - 120) دشمن کے لئے دعا میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی مسلمان ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے اور حقیقتہ موذی نہیں ہونا چاہیے شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن 177