ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 178
نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو۔ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی چاہتا جاوے، ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے۔ایک جگہ وہ فصل نہیں اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا۔یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے۔اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے۔اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیار نہیں کرتی۔اس میں اور اس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے۔کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنی درجہ کا ہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور ان سے محبت کرنی چاہیے کیو نکہ خدا کی یہ شان ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 95 - 97 ایڈیشن 1984ء) آنحضرت کے خلاف شدید بد زبانی کرنے والا جب خدا کی وعید کے مطابق جان سے گیا تو آپ نے فرمایا: ” یک انسان کی جان جانے سے تو ہم دردمند ہیں اور خدا کی ایک پیشگوئی پوری ہونے سے ہم خوش بھی ہیں۔کیوں خوش ہیں؟ صرف قوموں کی بھلائی کے لئے۔کاش وہ سوچیں اور سمجھیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی صفائی کے ساتھ کئی برس پہلے خبر دینا یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بد زبانیوں سے باز آجاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔“ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 28) گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سب بار اُٹھایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 224 مطبوعہ 1893ء) روزنامه الفضل آن لائن لندن 17 جون 2022ء) 178