ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 172
کر وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائے۔آپ ہر روز صبح ثمامہ کے قریب تشریف لے جا کر دریافت فرماتے کہ ”تمامہ! اب کیا ارادہ ہے؟“۔وہ جواب دیتا: اے محمد ؟ اگر آپ مجھے قتل کردیں تو آپ کو اس کا حق ہے کیونکہ میرے خلاف خون کا الزام ہے لیکن اگر آپ احسان کریں تو آپ مجھے شکر گزار پائیں گے اور اگر آپ فدیہ لینا چاہیں تو میں اس کے لئے تیار ہوں“۔تین دن یہ سوال وجواب ہوتا رہا اور پھر آپ نے اُسے آزاد کرنے کا ارشاد فرمایا۔وہ مسجد سے نکل کر ایک باغ میں گیا اور نہا دھو کر واپس آکر آنحضرت سے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپ کی ذات سے اور آپ کے دین اور آپ کے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی لیکن اب مجھے آپ کی ذات اور آپ کا دین اور آپ کا شہر سب سے زیادہ محبوب ہے۔مکہ فتح ہوا۔وہ جو جانی دشمن تھے جن کی وجہ سے مکہ چھوڑنا پڑا تھا یہ لوگ اپنے گھناؤنے جرائم کی وجہ سے واجب القتل تھے اور آپ کے رحم و کرم پر تھے آپ نے "لا تثریب علیکم الیوم“ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا فرما کر اپنے جانی دشمنوں کو معاف کر دیا۔اس عظیم الشان معافی کی مثال تاریخ عالم اور تاریخ انبیاء میں بھی نہیں ملتی۔۔زہر دے کر مارنے کی سازش فتح خیبر کے بعد مفتوح یہودیوں نے درخواست کی کہ ہمیں یہاں سے نہ نکالا جائے، ہم نصف پیداوار مسلمانوں کے حوالے کر دیا کریں گے، حضور صلی ا ہم نے قبول فرما لیا۔مگر یہودی بد عہدی کرتے رہے حتی کہ ایک یہودی عورت نے حضور صل الم کو زہر ملا گوشت کھلا کر جان لینے کی کوشش کی اور حضور مصلی می رویم کے استفسار پر اس نے قبول بھی کرلیا کہ بے شک میری نیت آپ کو قتل کرنا تھی، آپ صلی اللہ کریم نے فرمایا مگر اللہ کی منشاء نہ تھی کہ تیری آرزو پوری ہو جائے۔صحابہ نے اسے قتل کرنا چاہا تو آپ کی ہم نے منع فرما دیا، حضور ملی ایم نے جب اس عورت سے پوچھا کہ تمہیں اس ناپسندیدہ فعل پر کس بات نے آمادہ کیا تو اس نے جواب دیا، میری قوم سے آپ مالی ایم کی لڑائی ہوئی تھی، میرے دل میں آیا کہ آپ صلی نیلم کو زہر دے دیتی ہوں اگر واقعی آپ نبی ہوئے تو بچ جائیں گے۔رسول صلی یم کو اس زہر سے آخری وقت تک تکلیف رہی آپ مرض الموت میں آخری سانس لے رہے تھے تو حضرت عائشہ سے فرمانے لگے اے عائشہ! میں اب تک اس زہر کی اذیت محسوس کرتا رہا ہوں جو خیبر میں یہودیوں نے مجھے دیا تھا اور اب بھی میرے بدن میں اس زہر کے اثر سے کٹاؤ اور جلن کی کیفیت ہے۔مگر رسول اللہ اپنی ذات کے لئے 172