ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 173
کسی سے انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔آپ نے اس پر بھی یہود کو بخش دیا اور اس عورت کو معاف کر دیا۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي وفاته ) ایک موقع پر ایک یہودی نے حضور اکرم لی لی نام سے قرض کی ادائی میں سختی کرتے ہوئے گستاخی کے کلمات کہے اور حضور صلی ال نیم کے گلے میں چادر ڈال کر بل دیا، آپ میلی لی کام کی رگیں ابھر آئیں، حضرت عمر نے بڑی سختی سے یہودی کو ڈانٹا، مگر آپ نے حضرت عمر سے فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، تمہیں چاہیے تھا کہ اسے نرمی سے سمجھاتے، اور مجھے قرض ادا کرنے کا کہتے اب اس کا قرض ادا کرتے ہوئے اس سخت کلامی کے تاوان کے طور پر اس کو کچھ زیادہ دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی، فرمایا ہےلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائده: (9) یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دُکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں، جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں، ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 409) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو یہ دعا پڑھتے: اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ ترجمہ : اے اللہ ! ہم تجھ کو ان کے سامنے کرتے ہیں اور تیرے ذریعے ان کی شرارتوں (برائیوں) سے پناہ مانگتے ہیں۔173