ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 166 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 166

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت اقدس علیہ السلام کے جاں نثار صحابہ کو اس کی خبر قبل از وقت مل گئی تھی اور سب بے حد پریشان تھے۔جب یہ سارا ماجرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا گیا اور شکار کا لفظ آیا تو حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔آپ یکلخت اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: میں اُس کا شکار ہوں! میں شکار نہیں ہوں۔میں شیر ہوں، اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کر کے تو دیکھے۔الفاظ کہتے ہوئے آپ کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے۔حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دوہرائے اور اُس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا: میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہنے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کرونگا۔“ (سیرت المہدی مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے روایت (107) جس پیشی میں اس مجسٹریٹ کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حوالات میں دے دے گا وہ پیشی ملتوی ہو گئی۔مجسٹریٹ کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا اور پھر اس کا تنزل بھی ہو گیا۔پس جو کہتا تھا کہ مسیح دوراں اس کا شکار ہے وہ خود ذلت کا شکار ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام اور خدا کا کلام: إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَا نَتَكَ کہ جو تیری ذلت کا ارادہ کرے گا میں اسے ذلیل کردوں گا ایک قہری تجلی کے ساتھ پورا ہوا۔اللہ تعالیٰ کے ان گنت نشان اور ان گنت واقعات کا احاطہ ممکن نہیں۔دعا ہے کہ ہمیں بھی اپنے پیاروں کی اتباع میں تو کل کی حقیقی روح پر قائم رہنے کی توفیق ملے۔آمین اللهم آمین۔روزنامه الفضل آن لائن لندن 10 جون 2022ء) 166