ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 165
نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ: ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہے میں اس کو بچاؤں گا۔(الحکم جلد 6 نمبر 16 مورخہ 30 اپریل 1902ء صفحہ 7) طاعون کی وجہ سے چاروں طرف موتا موتی کا عالم تھا۔لیکن ذرا دیکھیے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو خدا کی نصرت پر کیسا اعلیٰ درجے کا یقین تھا۔آپ نے فرمایا کہ چونکہ طاعون میری تائید میں ایک نشان ہے اس لیے اگر ٹیکہ لگوا کے ہم اس وبا سے محفوظ رہے تو اس نشان کی عظمت کو کم کرنے والے ہوں گے۔لہذا میں ٹیکہ نہیں لگواؤں گا اور اس کے باوجود طاعون سے بچایا جاؤں گا بلکہ وہ سب بھی بچائے جائیں گے جو میری چار دیواری کے اندر رہتے ہیں اور آپ نے فرمایا کہ میرے منجانب اللہ ہونے کا یہ نشان ہو گا کہ میری جماعت بھی نسبتاً و مقابلۂ طاعون کے حملے سے بچی رہے گی۔پس نہ صرف آپ خود محفوظ رہے بلکہ آپ کے بچے پیرو کار بھی اس مہلک بیماری سے ٹیکا لگوائے بغیر اللہ کی حفاظت میں رہے۔اسی زمانے میں مولوی محمد علی صاحب جو ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں مقام پذیر تھے ان کو بخار ہو گیا۔مولوی صاحب نے گھبراہٹ کے عالم میں حضور سے ذکر کیا اور یہ فکر ظاہر کی کہ انہیں طاعون ہو گیا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتہائی اعتماد اور یقین سے فرمایا: ”مولوی صاحب اگر آپ کو طاعون ہو گئی ہے تو پھر میں جھوٹا ہوں اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے۔“ (خلاصه از حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 265) پھر چند ہی لمحات میں بخار بھی اتر گیا اور آپ بالکل صحت یاب ہو گئے جس زمانے میں حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف کرم دین کی طرف سے ایک لمبا مقدمہ چل رہا تھا آریوں نے اس کیس کے ہندو مجسٹریٹ کو جس کا نام چندو لال تھا خوب اکسایا اور حضرت اقدس کا نام لے کر اسے کہا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے۔اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے۔اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔اس پر مجسٹریٹ نے اپنا یہ ارادہ ظاہر کیا کہ اگلی پیشی میں وہ کچھ ایسا کرے گا کہ بغیر ضمانت قبول کیے نعوذ باللہ حضور کو گرفتار کروا کے حوالات میں دے دے گا۔165