ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 15 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 15

صاحبزادے کو جو غالباً حضرت میاں بشیر احمد تھے گود میں لیا اور ایک وزنی بیگ دوسری بغل میں لیا۔میں نے عرض کیا حضور یہ بیگ مجھے دیدیں۔فرمایا نہیں۔ایک دو دفعہ میرے کہنے پر حضور نے یہی فرمایا۔ہم چل پڑے اتنے میں دو تین نوجوان انگریز جو اسٹیشن پر تھے انہوں نے مجھے کہا کہ حضور سے کہوں کہ ذرا ٹھہر جائیں۔چنانچہ میں نے عرض کیا کہ حضور یہ چاہتے ہیں کہ حضور ذرا کھڑے ہوجائیں۔حضور کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اسی حالت میں حضور کا فوٹو لے لیا۔عاجزانہ راہیں (روایات ظفر صفحہ 64) آنحضرت علی ام اپنی ذات کے لیے احترام میں کسی قسم کا تکلف پسند نہ فرماتے۔اول آپ کو ہے مشرکانہ رسوم کا قلع قمع کرنا تھا دوسرے آپ کے مزاج میں عاجزی اور انکساری تھی۔ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ کے رعب کی وجہ سے کانپ رہا تھا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے مت ڈرو میں تو ایک قریش عورت کا بیٹا ہوں جو سو کھا گوشت کھایا کرتی تھی“ (شفا عیاض، باب تواضعہ جلد اوّل صفحہ 87 شرک کی گرفتار قومیں نئی نئی توحید میں داخل ہوئیں۔ایک نے آکر کہا شاہانِ فارس اور روم کو ان کی رعایا سجدہ کرتی ہے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کو کرو۔کسی دوسرے کو سجدہ نہ کرو۔“ (فصل الخطاب، جلد اول الشركة الاسلامیہ 1963ء صفحہ 20) آپ نے کبھی بھی اپنے لیے کوئی امتیازی نشان، وضع قطع، لباس اور نشست پسند نہیں فرمائی حتی کہ ایک محفل میں داخل ہونے پر احتراماً کھڑے ہونے سے بھی منع فرمایا: ”میرے لیے اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جس طرح مجھی کھڑے ہوتے ہیں“ ( سنن ابی داود کتاب الادب باب الرجل يقوم للرجل يعظمه بذالك ) الله سة فتح مکہ کے دن مکہ کی بستی نعرہ ہائے تکبیر سے گونجتی رہی کبھی فاتح مکہ محمد صل الی ایم کا نعرہ نہیں لگا۔آپ کا حال یہ تھا کہ خدا کے حضور حمد وشکر میں جھکتے جھکتے سر اونٹنی کے کجاوے سے لگ رہا تھا۔(سیرت ابن ہشام) 15