ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 138 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 138

مقابل پر اُن سے ظہور میں آیا قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرتی پڑتی ہے۔اخبار و کیل امر تسر بحوالہ بدر 18 جون 1908ء) کرزن گزٹ دہلی میں شائع ہونے والی اس کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی کی 1908ء کی درج ذیل تحریر آج بھی زندہ ہے۔مرحوم کی وہ اعلی خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں اس نے مناظرہ کا رنگ بالکل ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کردی بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابل زبان کھول سکے۔اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں ایسی قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا لکھنے والا نہیں اس کا پُر زور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔“ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 565 - 566) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز تحریر بالکل جدا گانہ ہے اس کے اندر اتنی روانی اور سلاست پائی جاتی ہے کہ وہ باوجود سادہ الفاظ کے، باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جس سے عام طور پر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کلام مبالغہ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے۔اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جا رہی ہیں اور جس طرح جب ایک زمیندار گھاس والی زمین پر ہل چلانے کے بعد سہا گہ پھیر تا ہے تو سہا گہ کے ارد کرد گھاس لپٹتا جاتا ہے اسی طرح معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر انسانوں کے قلوب کو اپنے ساتھ لپیٹتی جارہی ہے اور یہ انتہا درجے کی ناشکری اور بے قدری ہو گی اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے 138