ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 137 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 137

چشمے اچھال دئے اور اس شاہانہ انداز میں گویا کہ مالك الملك آپ کے ہاتھ سے خود لکھوا رہا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیو نکہ جب میں عربی یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصہ پر مشتمل ہوتی ہے (1) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر اُن مضامین کو میں لکھ سکتا۔واللہ اعلم۔(2) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے اور وہ یہ ہے جب میں مثلاً ایک عربی عبارت لکھتا ہوں اور سلسلہ عبادت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں اور اس وقت میں اپنی حس سے غائب ہو تا ہوں۔۔۔مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی عادت اللہ میرے ساتھ ہے اور یہ نشانوں کی قسم میں سے ایک نشان ہے جو مجھے دیا گیا ہے جو مختلف پیرایوں میں امور غیبیہ میرے پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں“ (نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 – 435) جس مقدس وجود نے اللہ تعالیٰ سے تعلیم پائی ہو اُس کے کلام کی وجاہت بلاغت کے سحر اور اسلوب و بیان کی خوبیاں بیان کرنا آسان کام نہیں۔یہ آسمانی سلسلے ہیں۔کلمات قدسیہ ہیں۔جن کی سمجھ بھی خدا کے فضل و احسان سے عطا ہوتی ہے۔اس انوکھی جادوگری کا اقرار اگر اغیار کی طرف سے ہو تو زیادہ جاذب توجہ ہوتا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اخبار و کیل امرتسر میں پیش کیا ہوا خراج تحسین ملاحظہ ہو۔وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر اور زبان جادو۔۔۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کر خفتگانِ خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اُٹھ گیا۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے 137