ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 124
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام جیسے آنحضور صلی می کنیم کی صداقت کے لئے آسماں پر چاند نے گواہی دی اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے بھی آسمان سے سورج چاند نے گواہی دی: آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مسیح موعود کی آمد کی نشانیوں میں سے ایک بڑی زبر دست نشانی سورج اور چاند گرہن تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشرق اور مغرب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں پورا ہوا۔پس اس لحاظ سے گرہن کی نشانی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت سے ایک خاص تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس نشان کا تفصیل سے ذکر فرماتے ہیں کہ: صحیح دار قطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں کہ إِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْه - ترجمه یعنی ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اس کی اوّل رات میں ہو گا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہو گا۔یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا۔صرف مہدی معہود کے وقت اس کا ہونا مقدر ہے۔اب تمام انگریزی اور اردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گزر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔اول اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چو نکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر صدہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے ، اس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔دوسری اس پر دلیل یہ ہے کہ بارہ برس پہلے اس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارے میں 124