ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 96
آپ کی خلوت پسندی تعلیم کے زمانے سے نظر آتی ہے اساتذہ کرام گھر پر تعلیم دیتے سبق سے فارغ ہو کر آپ بالا خانے پر تشریف لے جاتے اور تنہائی میں بیٹھے کر پوری یکسوئی سے اپنا سبق دہراتے۔آپ کے والد صاحب مرزا غلام مر تضی بار بار آپ کو سمجھاتے کہ اس طرح گزارا کیسے ہو گا آپ خاموشی سے سنتے اگر جواب دیتے تو یہ دیتے کہ: با بھلا بتاؤ تو سہی کہ جو افسروں کے افسر اور مالك الملك احكم الحاكمين كا ملازم ہو اور اپنے رب العالمین کا فرماں بردار ہو اس کو کسی کی ملازمت کی کیا پروا ہے۔ویسے میں آپ کے حکم سے بھی باہر نہیں“ ( تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 52) والد صاحب فرماتے ”اچھا بیٹا جاؤ، اپنا خلوت خانہ سنبھالو“ پھر آبدیدہ ہو کر کہتے ”جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے۔یہ شخص زمینی نہیں آسمانی (ہے) یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے“ چودہ پندرہ سال کی عمر میں تنہا بیٹھ کر قرآن مجید پڑھتے رہنے کے ذکر میں آپ کے والد صاحب نے فرمایا یہ " کسی سے غرض نہیں رکھتا سارا دن مسجد میں رہتا ہے اور قرآن شریف پڑھتا رہتا ہے۔“ ریویو آف ریلیجنزار دو قادیان جنوری 1942ء صفحہ 9) ایک اور موقع پر آپ کے والد صاحب نے فرمایا غلام احمد کو پتہ نہیں کہ سورج کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں جب میں دیکھتا ہوں چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 494 مطبوعہ 2008ء) اُس زمانے کی مصروفیات کے بارے میں آپ خود فرماتے ہیں ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیو نکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے“۔کتاب البریه، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 181 بقیہ حاشیہ) 13 - 15 سال کی عمر میں شادی ہوئی۔لیکن یہ تعلق بھی آپ کی خلوت نشینی پر اثر انداز نہ ہوا۔تعلیم کا 96