ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 93
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 17 خلوت پسندی خلوت کے معنی ہیں تنہائی اور علیحد گی۔پوشیدہ در پردہ ہونا، محبت خلائق اور ہستی سے بیگانہ ہونا۔جلوت کا الٹ۔انبیائے کرام کی اعلیٰ لذات ان کے معبود میں ہوتی ہیں۔عشق الہی میں بے خود ہو کر صرف خالق کائنات کے تصور اور یاد میں محو رہنا پسند کرتے ہیں اس لئے وہ دنیا اور دنیا کی دلچسپیوں سے بے نیاز ہو کر کسی گوشہ تنہائی میں علیحدہ ہو رہتے ہیں جہاں تمام تر محویت کے ساتھ اپنا وقت یاد الہی میں گزار سکیں۔ان میں ظاہر داری نہیں ہوتی انہیں لوگوں کی تعریف و توصیف کی طلب نہیں ہوتی جاہ پسند نہیں ہوتے۔صرف مولا کریم کی رضا چاہتے ہیں اور اس کے بندوں کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں۔مخلوق کی ہمدردی اور خیر خواہی میں انہیں صراط مستقیم پر دیکھنا چاہتے ہیں۔تنہائی میں ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔حتی کہ اللہ تعالیٰ ایسے خود فراموش بندوں کو اپنے لئے چن لیتا ہے اور ہاتھ پکڑ کر کنج عافیت سے نکال کر خدا نمائی کا کام سونپتا ہے۔آنحضور صلی علیکم کی خلوت پسندی کی گواہ غار حرا کی چٹانیں ہیں جن پر کئی کئی دن رات تنہا بیٹھے دعاؤں میں گزار دیتے کبھی آپ جنگل میں نکل جاتے اور تنہا اپنے رب کو یاد کرتے۔آپ گھر میں بھی گوشہ عافیت تلاش کر لیتے۔شب کی تاریکی بھی دنیا سے پردے کی صورت بن جاتی۔پھر آپ اپنے محبوب کی خوب پرستش فرماتے۔م حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جو خود تنہائی میں یاد الہی کے رسیا تھے اور صاحب تجربہ تھے فرماتے ہیں: صل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے آنحضرت صلی علیم کی بھی یہی حالت تھی اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے تھے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے بہادر اور شجاع تھے جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت بھی آجاتی ہے اس لئے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا 93