ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 81 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 81

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 15 پانچ نہایت نازک پر خطر مواقع حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے (2) دوسرا وہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابو بکر کے چھپے ہوئے تھے (3) تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جبکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کار گر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔(4) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا (5) پانچواں وہ نہایت خطر ناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہِ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبر دست دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا“۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 263 - 264 حاشیہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی للہی حفاظت کی معجزانہ شان اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام کا ابتدائی زمانہ نستا کمزور ی کا زمانہ تھا۔جبکہ بعد میں ظالموں نے عین شوکت اسلام کے زمانے میں حضرت عمر حضرت عثمان اور حضرت علی کو شہید کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے۔۔۔پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر الزماں کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہو گا۔(ملفوظات جلد 8 صفحہ 11) 81