ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 79 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 79

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ہے جس کا جواب بجز قتل اور کچھ نہیں۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 390) حضرت اقدس 1891ء میں دہلی تشریف لے گئے تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے آپ کو اطلاع دئے بغیر جامع مسجد میں مباحثے کا اعلان کر دیا۔آپ اس میں جانے کے اخلاقاً پابند نہیں تھے تاہم دعوت الی اللہ کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے وہاں جانے کا فیصلہ فرمایا۔مخالفین انتہائی اشتعال انگیز تقریریں کر کے عوام کو شرارت پر اُکسا رہے تھے۔دہلی میں آپ کے گھر کا محاصرہ کر کے فساد کے لئے تیار تھے۔آپ یہ شوروشر دیکھ کر بالا خانے پر تشریف لے گئے ہجوم کواڑ توڑ کر گھر کے اندر گھس گیا اور کچھ لوگ بالا خانے تک پہنچ گئے۔اس صورت حال میں مباحثہ ناممکن تھا۔بالآخر 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔آپ کو پیغام آنے لگے کہ آپ جامع مسجد ہر گز نہ جائیں آپ کی جان کو خطرہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے اس شیر نے فرمایا۔نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اللہ تعالیٰ کی " کوئی پیرواه حفاظت کافی“۔(تذکرة المهدى حصہ اول صفحہ 344 - 345 آپ اپنے احباب کے ساتھ بگھیوں میں مسجد کی طرف روانہ ہوئے راستے میں کئی بد بخت گھات میں بیٹھ گئے کہ حضور پر فائر کریں گے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کہ جس راہ حضرت اقدس اور آپ کے خدام کو جانا تھا بگھی والوں نے کہا کہ ہم اس راہ سے نہیں جائیں گے اس طرح آسمانی حفاظت نے آپ کی جان کو محفوظ رکھا۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 423 تا 425 کا خلاصہ) بھی 1891ء کا واقعہ ہے لدھیانہ میں ایک گنوار شخص مخالفانہ تقاریر سن کر جوش میں آگیا اور لٹھ لے کر حضرت اقدس کے بالا خانے میں پہنچ گیا۔آپ اس حاضرین کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔وہ بیٹھ کر سننے لگا کچھ دیر بعد وہ لٹھ اس کے کندھے سے اتر کر ہاتھ میں آگیا آپ کا خطاب ختم ہوا تو کہا: یں ایک مولوی صاحب کے وعظ سے اثر پا کر اس ارادہ سے یہاں اس وقت آیا تھا کہ اس لٹھ کے ساتھ آپ کو قتل کر ڈالوں اور جیسا کہ مولوی صاحب نے وعدہ فرمایا ہے سیدھا بہشت کو پہنچ جاؤں۔مگر آپ کی تقریر کے فقرات مجھ کو پسند آئے اور میں زیادہ سننے کے واسطے ٹھہر گیا اور آپ کی ان تمام باتوں 79