ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 74 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 74

نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی۔مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا میرے سچے خداوند نے اسی کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا سو وہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے، یہ بڑا معجزہ تھا“ (نور القر آن، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 385) ”یہ معجزہ اس لئے بھی بڑا تھا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔شیر ویہ کے اینچی کو بھیجے ہوئے مکتوب کے الفاظ بھی غیر معمولی ہیں۔یاد رکھو کہ میرے باپ نے جو حکم عرب کے ایک مدعی نبوت کو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا تھا وہ بھی ظالمانہ حکم تھا اسے بھی ہم منسوخ کرتے ہیں اور جب تک کوئی نیا حکم نہ آئے اس کے متعلق کوئی کارروائی نہ کرو“ (طبری جلد 3 صفحہ 1584) ہجری کا واقعہ ہے جنگ احزاب کی ہزیمت کے بعد ابوسفیان نے سوچا کہ ہر تدبیر ناکام ہو گئی ہے۔اب کسی دشمن اسلام کو آمادہ کیا جائے کہ وہ چپکے سے مدینہ جائے اور آپ کو قتل کر آئے اس نے دیکھا تھا کہ آپ بغیر کسی پہرے کے گلی کوچوں میں بے تکلف چلتے پھرتے ہیں پانچوں وقت کی نمازیں پڑھاتے ہیں۔قتل کرنے والے کا کام کوئی مشکل نہیں ہو گا۔اسے اس منصوبے پر عمل کرنے کے لئے ایک بدوی مل گیا جس نے وعدہ کیا کہ وہ خنجر چھپا کے رکھے گا اور موقع ملتے ہی کام تمام کر دے گا۔پھر بھاگ کر کسی قافلے کے ساتھ مل کر بیچ کر نکل جائے گا۔ابو سفیان نے اسے تیز رفتار اونٹنی اور زاد راہ دے کر رخصت کیا یہ معاملہ انتہائی راز میں رکھا گیا۔وہ چھ دن سفر کر کے مدینہ پہنچا اور سیدھا قبیلہ بنی عبد الاشہل کی مسجد گیا جہاں آنحضور تشریف فرما تھے۔آپ نے اسے آتے دیکھ کر فرمایا یہ شخص کسی بری نیت سے آیا ہے وہ یہ سن کر اور بھی تیزی سے آگے بڑھا ایک انصاری حضرت اسید بن حضیر نے اسے دبوچ لیا جس سے اس کا خنجر نیچے گر گیا۔آنحضور نے اسے پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم کون ہو اور کس ارادے سے آئے ہو؟ اس نے جاں بخشی اور معافی کے وعدے سے ابو سفیان کا سارا منصوبہ بتا دیا اور چند دن وہاں قیام کے بعد اسلام قبول کرلیا۔(سيرة خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد خلاصه صفحات 741 تا 743) سن سات ہجری میں فتح خیبر کے بعد ابھی آپ خیبر میں مقیم تھے کہ یہودیوں نے آپ کو قتل کرنے کی سازش تیار کی ایک خاتون زینب بنت الحارث نے آنحضور کے لئے بھنی ہوئی ران میں زہر ملا کر آپ کو 74