ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 73 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 73

آپ کے گھر میں ارد گرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے۔باورچی خانے میں گندی چیزیں پھینکی جاتیں جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتیں۔جب آپ نماز پڑھتے تو آپ کے اوپر گردوغبار ڈالی جاتی تھی حتی کہ آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی۔“ (دیباچہ تفسیر القر آن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 198) طائف کی سنگلاخ زمین پر پتھروں کی چوٹیں سہتے اور زخم کھاتے ہوئے اس حالت میں کہ نعلین مبارک خون جم جانے سے پاؤں میں چپکی ہوئی تھیں تین کوس تک جس طرف رخ تھا بھاگتے گئے۔اس بظا ہر بے یارومدد گار بندہ خدا کو ان ظالموں سے قادر و توانا خدا نے بچایا۔۔ہجرت کے وقت غار ثور کے دہانے پر کھوجی کہہ رہا تھا یہاں تک تو پیروں کے نشان ملتے ہیں اس کے بعد انہیں زمین کھا گئی یا آسمان پر چڑھ گئے۔آپ وہیں تھے ان کی آوازیں سن رہے تھے مگر اپنے اللہ کی حفاظت میں تھے ذرا سی مکڑی کمزور سا جالا ننھی کبوتری کا گھونسلا اور انڈے یہ ان خونخوار دشمنوں سے نہیں بچا رہے تھے وہ قادر و توانا خدا تھا جو حصار بنائے کھڑا تھا۔سراقہ بن مالک سو اونٹوں کے لالچ میں پیچھا کرتا ہوا اپنے مطلوب تک پہنچ گیا تھا کسی طاقت ور کے ہاتھ نے اس کے گھوڑے کو بار بار گرایا یہاں تک کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ ان کے ساتھ تو کوئی اور ہی طاقت کام کر رہی ہے۔چشم تصور میں ان کے اقتدار کے نقشہ سے دل پر لرزہ طاری ہوا وہ اتنا مرعوب ہوا کہ خو د پناہ مانگنے پر مجبور ہو گیا۔بادشاہ ایران خود کو مطلق العنان سمجھتا تھا آنحضور کا دعوت الی اللہ کا خط پہنچا تو خط پھاڑ دیا، اینچی کو قتل کرادیا اور اپنے سپاہی روانہ کئے کہ اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے لے آئیں۔اس واقعہ کے بارے میں حضرت اقدس علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ”وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا ہمیں گرفتاری کا حکم ہے۔آپ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کرکے فرمایا ”تم اسلام قبول کرو۔“ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر رہبانی رعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے کہ ہم جواب ہی لے جائیں حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جو تم خداوند خداوند کہتے ہو وہ خداوند 73