ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 72
اللہ تعالیٰ نے آپ کی جسمانی اور روحانی ہر قسم کی حفاظت کا ذمہ لے لیا۔کل عالم کو فریضہ تبلیغ کا کام جان پر کھیلے بغیر ممکن نہ تھا۔قلب محمد" کی تقویت اور جمعیت خاطر کے لئے موٹی کریم کی حفاظت کا وعدہ ایک طرف یہ بتا رہا تھا کہ یہ راہ پر خطر ہے اور دوسری طرف روحانی طاقت میں اضافہ کا حوصلہ تھا اور بڑھتے ہوئے قرب الہی کا سکون تھا۔فی الوقت اس مضمون میں آپ کی معجزانہ جسمانی حفاظت کا ذکر ہو گا۔جو آپ کی صداقت کی ایک دلیل بھی ہے۔حفاظت الہی کی تجلیات آپ کی پیدائش سے پہلے شروع ہو گئی تھیں ابرہہ سے خانہ خدا کو بچانا دراصل آنے والی بابرکت ذات کو بچانا تھا۔پھر قریبی عزیزوں کی پے در پے وفات سے آپ دربدر نہیں ہوئے زیادہ لاڈ پیار ناز و نعم اور عمدہ پرورش کے سامان ہوتے رہے۔اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا خانہ خدا میں سجدہ ریز رسول اللہ کا سر کچلنے کے ارادے سے بڑا سا پتھر لے کر آنے والے ابو جہل کو بڑے بڑے دانتوں والے ہیبت ناک مست اونٹ کے نظارے نے شل کر دیا۔آپ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جبریل کو بھیجا تھا۔سجدے میں پیشانی رکھنے والے کو گردو پیش میں کسی کارروائی کا علم بھی نہیں ہوا جبکہ اس کی حفاظت کے ضامن نے ابو جہل کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران محمد مشرکین مکہ خانہ کعبہ میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف زہر اگلنے کے بعد یہ فیصلہ کر کے اٹھتے ہیں کہ برداشت کی حد ختم ہو گئی اب ایک ہی صورت ہے کہ اس فتنے کے سرغنہ محمد کو جان سے مار دیا جائے ایک بہادر سپوت ننگی تلوار لے کر نکلتا ہے ابھی منزل تک نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا دل پھیرنے کے سامان کر دیتا ہے اور وہ کلمہ شہادہ پڑھ کے مسلمان ہو جاتا ہے۔قتل کے ارادے سے آنے والا خود مقتول ہوجاتا ہے اس پر وار کس نے کیا؟ اسی کریم ذات نے جس نے محمد سے حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ تحریر فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے۔آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر لو گوں نے کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں اتنے میں ابو بکر وہاں آگئے اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے چھڑایا کہ اے لو گو! کیا تم ایک آدمی کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آتا ہے۔ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھری لا کر رکھ دی گئی اور اس کے بوجھ سے اس وقت تک آپ سر نہ اٹھا سکے جب تک بعض لو گوں نے پہنچ کر اس او جھری کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں۔72