ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 64
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام یہ معنے ہیں کہ انسان خدا کے آگے اپنی گردن رکھ دے اور اُس کی عظمت اور جلال کے پھیلانے کے لئے اور اُس کے بندوں کی ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جائے اس کی طرف میں تجھے بلاتا ہوں۔اسلام میں داخل ہو جا کہ اگر تو نے یہ دین قبول کر لیا تو پھر سلامت رہے گا اور بے وقت کی موت اور تباہی تیرے پر نہیں آئے گی اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر موت اور ہاویہ در پیش ہے اور اگر تونے اسلام کو قبول کرلیا تو خدا تجھے دو اجر دے گا۔یعنی ایک یہ کہ تو نے مسیح علیہ السلام کو قبول کیا اور دوسرا یہ اجر ملے گا کہ تو نبی آخر الزمان پر ایمان لایا لیکن اگر تو نے منہ پھیرا اور اسلام کو قبول نہ کیا تو یاد رکھ کہ تیرے ارکان اور مصاحبین اور تیری رعیت کا گناہ بھی تیری ہی گردن پر ہو گا۔اے اہل کتاب! ایک ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو تم میں اور ہم میں برابر ہے یعنی تعلیمی انجیل اور قرآن کی اس پر گواہی دیتی ہیں اور دونوں فرقوں کے نزدیک وہ مسلّم ہے کسی کو اس میں اختلاف نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم محض اُسی خدا کی پرستش کریں جو واحد لاشریک ہے اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ شریک نہ کریں نہ کسی انسان کو نہ کسی فرشتہ کو نہ چاند کو نہ سورج کو نہ ہوا کو نہ آگ کو نہ کسی اور چیز کو اور ہم میں سے بعض خدا کو چھوڑ کر اپنے جیسے دوسروں کو خدا اور پروردگار نہ بنائیں اور خدا نے ہمیں کہا ہے کہ اگر اس حکم کو سن کر یہ لوگ باز نہ آویں اور اپنے مصنوعی خداؤں سے دست بردار نہ ہوں تو پھر ان کو کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم خدا کے اس حکم پر قائم ہیں کہ پرستش اور اطاعت کے لئے اُسی کے آستانہ پر گردن رکھنی چاہیئے اور وہ اسلام جس کو تم نے قبول نہ کیا ہم اُس کو قبول کرتے ہیں۔یہ خط تھا جو ہمارے سیّد و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کی طرف لکھا تھا اور اُس کو قطعی طور پر ہلاکت او رتباہی کا وعدہ نہیں دیا بلکہ اُس کی سلامتی اور ناسلامتی کے لئے شرطی وعدہ تھا اور صحیح بخاری کے اسی صفحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی قدر قیصر روم نے حق کی طرف رجوع کر لیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مدت تک اُس کو مہلت دی گئی۔لیکن چونکہ وہ اُس رجوع پر قائم نہ رہ سکا اور اُس نے شہادت کو چھپایا اس لئے کچھ مہلت کے بعد جو اُس کے رُجوع کی وجہ سے تھی پکڑا گیا اور اُس کا رجوع اُس کے اس کلمہ سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری کے صفحہ 4 میں اس طرح پر مذکور ہے۔فان کان ما تقول حقا سيملك موضع قدمي هاتين وقد كنت اعلم انه خارج ولم اكن اظن انه منكم فلواني اعلم انى أخلص اليه لتجسّتُ لقاءه ولوكنتُ عنده الغسلتُ عن قدمیہ۔اس عبارت کا ترجمہ کرنے سے پہلے یہ بات ہم یاد دلا دیتے ہیں کہ یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جبکہ قیصر روم نے ابوسفیان کو جو تجارت کی تقریب سے مع اپنی ایک جماعت کے شام کے ملک میں وارد تھا اپنے پاس بلایا اور اُس وقت قیصر اپنے ملک کا سیر کرتا ہوا بیت المقدس میں یعنی یروشلم میں آیا ہوا تھا اور قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ابو سفیان سے جو اُس وقت کفر کی حالت میں تھا بہت 64