ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 60 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 60

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 11 رہائش کی سادگی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں : ”خدا تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت صلی ایم پر کھول دئے۔سو آنجناب علی ایم نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بار گاہ تیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کوٹھے میں جس کو غریب لو گوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا اور کھانے کے لئے نان جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت علی ایم نے اپنے ہاتھ کو ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 982) حضرت عبد اللہ بیان فرماتے ہیں کہ چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے آنحضرت صلی ایم کے جسم پر نشانات تھے جنہیں دیکھ کر عرض کی ہماری جان آپ پر فدا ہو اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس چٹائی پر کوئی گدیلہ وغیرہ بچھادیں جو آپ کو اس سے محفوظ کر دے گا۔آپ نے فرمایا: ما انا والدنيا انما انا والدنیا کہ اکب استضل تحت شجرةً ثم راح وتركها ابن ماجہ کتاب الزهد باب مثل الدنيا ) کہ مجھے دنیاوی لذتوں سے کیا غرض ؟ میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک مسافر ہو جو ستانے کے لئے سایہ دار درخت کے نیچے کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر سفر کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔آپ کا اپنا کھانا پینا لباس بستر وغیرہ سب سادہ تھے زمین پر بچھونا ڈال کر سو جاتے بستر یا گدا چمڑے کا تھا 60