ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 54 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 54

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام آنحضرت خیر الرازقین کی پیدا کی ہوئی ہر نعمت دسترس میں ہونے کے باوجود رضائے الہی کی خاطر ان سے دست کش رہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ کے زندگی بھر کے قریبی مشاہدہ کا نچوڑ ملاحظہ ہو۔فرماتی ہیں: رسول اللہ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور اپنے گھر میں کبھی کھانا خود سے نہیں مانگتے تھے۔نہ ہی اس کی خواہش کرتے تھے اگر گھر والے کھانا دے دیتے تو آپ تناول فرمالیتے اور جو کھانے پینے کی چیز پیش کی جاتی قبول فرمالیتے۔ابن ماجه کتاب الاقتصاد باب 94 حضرت ابو ہریرۃ آپ کی کم خوری اور سادگی کے ذکر میں روایت کرتے ہیں: آنحضور اس دنیا سے تشریف لے گئے مگر کبھی جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔“ تجرید بخاری حصہ دوم صفحہ 814) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی طشتریوں میں کھانا کھایا ہو اور نہ ہی آپ کے لئے کبھی چپاتیاں پکائی گئی ہیں، روٹی پکائی گئی اور نہ کبھی آپ نے تپائی (چھوٹی میز سامنے رکھ کر اونچی چیز پر لگا ہوا کھانا باقاعدہ کھایا ہو۔قتادہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس پر کھانا کھایا کرتے تھے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ دستر خوان پہ۔یعنی زمین پہ کپڑا بچھا لیتے تھے اور اس پہ بیٹھ کے کھانا کھایا کرتے تھے۔بخاری کتاب الاطعمة باب الخبز المرقق والاكل على الخوان والسفرة ) آپ کی سادہ خوراک کے بارے میں سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھنے ہوئے آٹے کی چپاتی کھائی ہے؟ سہل نے جواب دیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تادم آخر کبھی چھنے ہوئے آٹے کی چپاتی نہیں دیکھی۔اس پر میں نے پوچھا کیا تمہارے پاس آنحضرت کے زمانہ میں چھلنیاں نہیں ہوا کرتی تھیں۔انہوں نے کہا آنحضرت نے اپنی بعثت سے لے کر وفات تک چھلنی نہیں دیکھی۔ابو حازم کہتے ہیں میں نے سہل سے پوچھا آپ بغیر چھانے کے جو کا آٹا کس طرح کھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم کوٹنے کے بعد اسے پھونکیں مار لیتے اور اس طرح جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا اور باقی کو ہم بھگو کر کھا لیتے۔(بخاری کتاب الاطعمة باب ما كان النبى واصحابه ياكلون ) 54